اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 28
25 سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع حضرت امام عالی مقام سیدنا حضرت خلیفۃ امسیح الرابع (ولادت 18 دسمبر 1928ء وفات 19 اپریل 2003ء) کے اکیس سالہ عہد خلافت میں حضرت مصلح موعود کا مبارک زمانہ اپنی بے شمار علمی عملی اور روحانی برکتوں کے ساتھ پلٹ آیا خصوصاً حضور کی فصیح و بلیغ خطابت اور رقت آمیز تلاوت سن کر سلطان البیان سید نا محمود الصلح الموعود کی بے شمار یادیں تازہ ہو جاتی تھیں۔خاکسار کو 1944 ء سے آپ کی زیارت کا شرف حاصل تھا۔1948ء کے جلسہ سالانہ لاہور کے سیج سے آپ کی زبان مبارک سے پہلی بار مصلح موعود کا کلام ع پہنچائیں در پہ یار کے وہ بال و پر کہاں نہایت خوش الحانی سے سننے کی سعادت ملی اور قلب و روح میں ایک نئی روحانی برقی لہر دوڑ گئی خصوصاً اس شعر نے تو پورے مجمع پر خاص کیفیت طاری کر دی۔سجدہ کا اذن دے کے مجھے تاجور کیا پاؤں ترے کہاں مرا ناچیز سر کہاں اس وقت آپ کی عمر مبارک میں سال کے لگ بھگ تھی عنفوان شباب میں اس پر معارف نظم کا انتخاب بھی آپ کے فنافی اللہ ہونے پر شاہد ناطق ہے۔ربوہ میں آپ سے ابتدائی تعلق 1954 ء کے بعد ہوا جبکہ یہ عاجز رسالہ ” خالد کا نائب ایڈیٹر تھا۔اکتوبر 1957ء میں آپ انگلستان میں اڑھائی سال تک قیام فرمارہنے کے بعد واپس مرکز احمدیت میں رونق افروز ہوئے تو یہ ابتدائی تعلق آہستہ آہستہ گہرا اور بے تکلف رنگ اختیار کر گیا آپ نے نومبر 1966 ء سے نومبر 1969ء تک صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی حیثیت سے نوجوانان احمدیت کی فقید المثال قیادت فرمائی جس کے دوران آپ کی رفاقت میں سفر پشاور کا موقع بھی میسر آیا۔حضور ہی کی ذاتی کار تھی اور حضور ہی نے ڈرائیو کی اور مجھے فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کا ارشاد فرمایا دوران سفر بہت سے علمی اور تبلیغی نکات پر اظہار خیالات فرمایا۔رستہ میں اپنی جیب ہی سے اکل