اقلیم خلافت کے تاجدار

by Other Authors

Page 22 of 48

اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 22

19 کر لیا اور ساتھ ہی پورے لٹریچر کو الماریوں میں آویزاں کر کے ان پر ہر مضمون کی چٹیں بھی لگا دیں جس پر حضور نے بہت اظہار خوشنودی فرما یا حتی کہ مسکراتے ہوئے فرمایا کہ تم تو جن ہو اور ساتھ ہی اپنے دست مبارک سے بہت سا پھل بھی تبر کا ایک طشت میں میرے سامنے رکھ دیا۔یہ لائبریری قرآن مجید، احادیث، کتب مسیح موعود، کتب علماء سلسلہ، ادب عربی ، معاشیات اور بعض دوسرے قیمتی لٹریچر پر مشتمل تھی۔اسی طرح بخاری شریف کی شرح کرمانی خاص اہتمام سے لائبریری کی زینت تھی علاوہ ازیں مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کی نصابی کتب بھی تھیں جنہیں دیکھ کر میں دنگ رہ گیا کیونکہ انقلابات لیل و نہار کے باوجود ایسی صاف اور نفیس صورت میں تھیں کہ گمان ہوتا تھا کہ ابھی بازار سے منگوائی گئی ہیں۔حضور انور نے کتابوں یا رسالوں کی آئندہ جلد بندی کے لئے پہلے ہی روز عاجز کو ایک خاص رقم عطافرمائی اور ارشاد فرمایا حساب بتانے کی ضرورت نہیں جب مزید رقم درکار ہو بتادیا کرو یہ مبارک رقم میں نے نیشنل بینک ربوہ میں اپنے ہی نام سے جمع کرادی۔اتفاق سے اسی روز بینک کا افتتاح ہوا اور یہ رقم اکاؤنٹ نمبر 1 میں داخل کر دی گئی۔ان دنوں برادرم ہدایت اللہ صاحب ( ابن محمد عبداللہ صاحب جلد ساز قادیان) ربوہ کے بہترین جلد ساز تھے حضور کی عطا فرمودہ جملہ کتب یا رسالوں کی جلد بندی انہی کے ہاتھوں ہوئی۔سیدی حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے قبل از خلافت مولا نا عبد اللطیف صاحب فاضل بہاولپوری کے ذریعہ تیرہ صدیوں کے الہامات و کشوف کا ایک مبسوط مجموعہ تیار کرایا تھا تا مذاہب عالم پر اتمام حجت کر کے ثابت کیا جاسکے کہ آنحضرت ﷺ زندہ رسول اور قرآن زندہ کتاب ہے جس کی برکتوں سے مکالمہ مخاطبہ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے یہ مجموعہ چار کا پہیوں میں ریکارڈ ہوا جسے حضور نے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے معابعد خاکسار کو مرحمت فرما دیا جو میرے پاس محفوظ ہے۔ایک دفعہ حضور نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ عاجز کا ” الفرقان“ میں شائع شدہ مقالہ حضرت نعمت اللہ ولی رحمتہ اللہ علیہ کا اصل قصیدہ کسی طرح لاہور کے کسی ادبی و نشریاتی ادارہ سے شائع ہو اور اسے ملکی لائبریری میں بھی بھیجوایا جائے۔بظاہر حالات اس امر کا امکان بہت کم تھا مگر