اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 25
22 مرحمت فرمایا اور ساتھ ہی میری درخواست پر اپنے مبارک دستخط بھی فرمائے۔یہ یادگار تبرک ہمیشہ میرے بٹوہ میں رہتا ہے جس کی بے شمار برکات اب تک میرے مشاہدہ میں آئی ہیں۔خلافت ثالثہ کے عہد مبارک کے آخری جلسہ سالانہ (1981ء) کی دوسری شب (27 دسمبر ) کا ذکر ہے کہ مولانا ابوالمنیر نورالحق صاحب اور خاکسار قریباً ڈیڑھ بجے تک حضور انور کی خدمت میں حاضر رہے۔خاکسار نے 28 دسمبر کی علمی تقریر کے حوالے پیش کئے فرمایا حوالے تو بفضلہ تعالیٰ بہت جمع ہو گئے ہیں اور شاید میں مکمل طور پر ان کو بیان بھی نہ کر سکوں مگر مشکل یہ پیش آ گئی ہے کہ جلسہ کی مصروفیات، تقاریر اور ملاقاتوں کے باعث اب حضرت مسیح ناصری کے الفاظ میں میری حالت یہ ہے که روح تو مستعد ہے مگر جسم کمزور ہے ( مرقس باب 14 آیت 38 ) حالانکہ ابھی پونے دو بجے شب مجھے حسب معمول تحریک جدید کی ڈاک کو بھی دیکھنا ہے۔میں نے عرض کیا کہ اگر اجازت ہو تو تفریح طبع کے لئے چند لطائف ہو جائیں۔حضور انور نے فرمایا یہی تو میرا مقصد ہے۔اپنے مقدس آقا کی اس اجازت پر میں نے سانگلہ ہل کے ایک معروف بریلوی عالم مولوی عنایت اللہ صاحب کی چک چٹھہ اور باغبانپورہ میں بعض تقاریر کے کچھ انتہائی دلچسپ نمونے انہی کے رنگ میں لہکتے اور گاتے ہوئے سنا دیئے جس پر حضور کا چہرہ مسکراہٹوں سے تمتما اٹھا اور آنکھوں سے خوشی کے مارے بے اختیار آنسو تک نکل آئے اور نہایت پیار سے فرمایا تمہیں چھٹی۔میں تحریک جدید کی ڈاک پڑھنے لگا ہوں چنانچہ جب ہم دونوں فورا باہر آ گئے تو حضرت مولانا ابوالمنیر نورالحق صاحب نے فرمایا کہ حضور سے میرے مراسم و روابط قادیان کے زمانہ سے ہیں اور مجھے حضور کی خدمت میں بے شمار مرتبہ حاضری کا شرف حاصل ہوا ہے، حضور اس وقت دلچسپ لطائف سے جس طرح محظوظ ہوئے ہیں اس کا نظارہ میں نے آج پہلی دفعہ کیا ہے۔مبارک ہو۔حضرت صاحب کی بعض ضروری نصائح -1 ایک دفعہ عاجز بیت الفضل اسلام آباد کی بالائی منزل پر حضور کی خدمت اقدس میں حاضر تھا دوران گفتگو حضور نے نصیحت فرمائی کہ حضرات آئمہ اہلبیت کے نام کے ساتھ ضرور