اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 26
23 علیہ السلام لکھنا چاہئے۔-2 آپ کا مجھے تاکیدی ارشاد تھا کہ سپین ، بغداد یا مسلمانوں کی دوسری قدیم سلطنتوں کے حالات پر قلم اٹھاتے ہوئے مسلمان مورخین ہی کے عظیم الشان لٹریچر کو اپنا بنیادی مآخذ بنانا چاہئے نہ کہ مستشرقین کی کتابوں کو۔البتہ اس کی تائید میں ان کی مستند معلومات یا ضمنی امور سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ یہ ایسی اہم بات ہے کہ خود حضرت مسیح موعود نے مخلصین جماعت کو ابتداء ہی میں عیسائیت کے حملہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا :- ایک تو پادری ہیں جو کھلے طور پر اسلام کے خلاف کتابیں لکھتے اور شائع کرتے ہیں۔دوسرے انگریزی طرز تعلیم اور کتابوں میں پوشیدہ طور پر زہر یلا مواد رکھا ہوا ہے فلسفی اپنے طرز پر اور مورخ اپنے رنگ میں واقعات کو بری صورت پیش کر کے اسلام پر حملہ کرتے ہیں (ملفوظات حضرت مسیح موعود بلد اس ۱۳) اسی طرح سید نا محمود صلح الموعود نے احمدی سکالرز کو خبر دار کیا :- اسلام اور مسلمانوں پر سب سے بڑی تباہی اسی وجہ سے آئی ہے کہ ان کی شاندار قومی روایات طاق نسیان پر رکھ دی گئی ہیں اور ماضی سے ان کا تعلق مٹ گیا ہے اور صحابہ اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے لیڈروں کی خوبیاں مسلمانوں سے اوجھل ہو گئیں۔اس ٹرڈیشن کے تباہ کرنے میں یورپین لوگوں کی لکھی ہوئی تاریخوں نے خصوصیت سے صہ لیا ہے۔کوئی مسلمان بادشاہ ایسا نہیں جس پر انہوں نے الزام نہ لگایا ہو اور اسے بری سے برخی اور بھیا نک سے بھیا تک صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔آسان سے آسان طریق کسی قوم کو تباہ کرنے کا یہ ہے کہ اسے اپنی پچھلی تاریخ سے بدظن کر دیا جائے۔اگر اسے اپنی پچھلی تاریخ سے بدظن کر دیا جائے تو وواجتثت من فوق الارض مالها من قرار ابراہیم 27 ع 16 ) کا مصداق بن جاتی ہے اور کبھی زندہ نہیں رہ سکتی۔یورپین لوگوں نے اس آسان حربہ سے کام لیا اور تمام اسلامی تاریخ کو انہوں نے بگاڑ کر رکھ دیا۔بڑے بڑے مسلمان بادشاہ کا