عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات

by Other Authors

Page 57 of 113

عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 57

06 کے اصرار پر آپ کو بھی مولوی صاحب کے مکان اور پھر مسجد میں جانا پڑا۔دیکھا کہ سامعین کا ایک ہجوم ہے اور مباحثہ کیلئے بے تاب ہے آپ مولوی صاحب موصوف کے سامنے بیٹھ گئے اور پوچھا کہ آپ کا دعوی کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میرا دعوالی ہے کہ قرآن مجید سب سے مقدم ہے اس کے بعد اقوال رسول کا درجہ ہے کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ کے مقابل کسی انسان کی بات قابل حجت نہیں۔حضور نے یہ سن کر بے ساختہ فرمایا کہ آپ کا یہ اعتقاد معقول ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا حضور کا یہ کہنا ہی تھا کہ لوگوں نے دیوانہ وار شور مچا دیا کہ مار گئے۔ہار گئے۔شخص آپکو ساتھ لے گیا تھا وہ سخت طیش سے بھر گیا کہ آپ نے ہمیں ذلیل ورسوا کیا مگر آپ کوہ وقار بنے رہے اور اس ہنگامہ آرائی کی ذرہ بھر پروانہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کیا میں یہ کہوں کہ امت کے کسی فرد کا قول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول پر مقدم ہے ؟ یہ دستکشی آپنے چونکہ تھا امتنا اللہ اور اس کے پاک رسول کی رضا کیلئے کی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے عرش سے اس پہ اظہار خوشنودی کرتے ہوئے الہام فرمایا تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت میرکت و یگا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں کے لیے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عدل و انصاف کی اس شاندار مثال کے مقابل مولوی صاحب موصوف کا انداز تم کیا تھا حضرت پیر سراج الحق نعمانی بر بر بین احمدیہ طبع اول حق چهارم مدل ۵۲ حاشیه در حاشیه ۳۷