عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات

by Other Authors

Page 56 of 113

عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 56

کوسب استہزاء کا چوتھا طریق www کتاب اللہ میں اللہ جل شانہ نے علم موازنہ مذہب، علم عقائد و اختلاف مسائل میں تحقیق کیلئے جو راہنما اصول بیان فرمائے ہیں انہیں عدل و انصاف کو سب سے بڑھکر ا ہمیت دی ہے۔چنانچہ فرماتا ہے :- ياتها الذِيْنَ المَنُوا كُونُوا قَدُّ مِينَ بِهِ شُهَدَاء بالقسط ذ وَلَا يَجْر مَثْكُمْ شَنَانُ قَوْمًا عَلَى اللَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ اقرب للتقوى : واتَّقُوا الله إلى اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ م (الماده:9) اسے ایما ندارد ! تم انصاف کیسا تھ گواہی دیتے ہوئے اللہ کیلئے کھڑے ہو جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم انصاف کرو تم انصاف کرو۔یہ تقولی کے زیادہ قریب ہے اور اللہ کا تقواسی اختیار کرو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے یقیناً آگاہ ہے۔۱۸۶ اء کا واقعہ ہے کہ مشہور اللحديث عالم البوسعید جناب مولدی کمیسیون صاحبہ بٹالوی جب دلی سے علم حاصل کر کے واپس اپنے وطن بالہ میں تشریف لائے تو انہیں دوسرے مذہبی راہنماؤں کی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ان وقول حضرت مسیح موعود عليه السلام ہم کا عہد شباب تھا سو ۳ - ۳۴ سالی کی عمر ہو گی۔آپ کسی کام یین ناله بالین قیام فرما تھے نہ آیا اکھاڑوں سے آپکو کوئی دیجیسی نہ مفتی لیکن ایک شخص ا: