عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 73
اور اسپند رب العالمین کا فرمانبردار ہو اس کو کسی ملازمت کی کیا پرواہ ہے ، یہ وہ ماحول تھا جس میں آپ پر رب ذو العرش کیطرف سے شداد کے آخر میں الہام ہوا کہ : " مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کہ وعدہ کے موافق تو آیا ہے ، سے اس خدائی فرمان پر اگرچہ آپکو از حد تشویش اور فکر دامن گیر ہوئی مگر آپ شہ ذی الاقتدار کے اس حکم کو تو بھی کیسے کر سکتے تھے آپ نے انگریزی حکومت اور عامتہ المسلمین کی شدید مزاحمت کے خوف کے باوجود بلا خوف یہ اعلان فرمایا کہ میں ہی موعود مسیح و مہدی ہوں اس آواز کے بلند ہوتے ہی آپ کیخلاف طوفان مخالفت اٹھ کھڑا ہوا اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے متحدہ ہندوستان کے علماء کے فتاوی تکفیر جمع کر کے اور انکو بڑے سائز کے ۳۰۳ صفحات پر شائع کر کے حکومت اور پبلک میں ایک آگ بھڑ کادی ۲ بھڑکا پادری عماد الدین نے تو زمین الاقوال " میں آپ پر بغاوت کا الزام لگا یا حسین پر انگریہ کے نیم سرکاری اور سیاسی اختیار سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور اسم در اکتوبر ۱۸۶۴ عر صہ کالم تین نے ایک اشتعال انگیز اداریہ لکھا " ایک خطر ناک مذہبی جنونی کہ پنجاب میں ایک مشہور مذہبی جنونی ہے، ہمارا خیال ہے اب وہ چل ضلع ل تذكرة المهدئ حصہ دوم ص ۳۳ ) از حضرت پیر سراج الحق نعمانی (۴) ۲۵ دسمبر ۱۹۹ عد یکے ازالہ اوہام ص۵۶ - ۵۶۲ کے نوٹ :۔اس کا مکمل انگریزی آتی آخر میں ملاحظہ فرمائیں