عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات

by Other Authors

Page 71 of 113

عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 71

* کے اُس موعود کی تصدیق کرتے ہیں جس کا وعدہ قرآن میں موجود ہے آیت سے آگے ہی وَ بِالآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُون کے الفاظ يار، لهنداسيات ہیں عبارت کی رو سے موعود با تین مراد لینا با لکل درست ہے، تلیسه آنحضرت سے بالاخرة کی تفسیر وحى الأخر ثابت ہے چنا نچہ خادم رسول حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ " قَالَ سُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔۔۔۔۔أَعْجَبُ النَّاسِ إِيمَانًا قَوْم يَجِيْبُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ فَيَجِدُونَ كِتَابًا مِنَ الوَفي فَيُؤْمِنونَ بهِ وَيَتَّبِعُونَ ، حضرت رسول اللہ نے ارشاد فرمایا۔تمام لوگوں میں ایمان کے اعتبار سے وہ قوم سب سے عجیب ہوگی جو تمہارے بود آئیگی وہ لوگ وحی سے کتاب (قرآن) کو پائیں گے اور اسی وجی سے اس پر ایمان لائیں گے اور اس پر عمل پیرا ہوں گے۔آنحضرت کی اس پر معارف تفسیر کا مآخذ اور سرمایہ بھی آیت " وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُؤْتِنُونَ " میں ہو سکتی ہے۔لہذا اسے تحریف قرآن کا نام دینا ایک ایسی ناپاک جسارت ہے جسکی توقع کسی عاشق رسول سے نہیں ہو سکتی۔مجھ کو استہزاء کا پانچواں طریق استہزاء کا پانچواں طریق وہ متضاد اعتراضات پلیر حسن کا دامن الشمائلہ سے ۱۹۸۴ تک پھیلا ہوا ہے اور جو زمانہ کی مصلحتوں کی مطابق مٹی سے بنی صورت ن در منشور للسيوطى جلدا ص۳۶