عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات

by Other Authors

Page 70 of 113

عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 70

آیت و بالخفية قمة يوفنتون کی تفسیر به مساحقیت ہے وَبِالْخِرَةِ هُمْ ن مجید کی سرائیت کئی لطین رکھتی ہے اور پرابطہ کا امن بے شمار حقائق و معارف سے لبریز R ہے اس نقطۂ معرفت کو نظر انداز کرنے کے نتیجہ میں متعد د سوالات اٹھائے جانتے ہیں مثلاً یہ خیال عام ہے کہ آیت " وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُون (البقرہ ) کے صرف یہ معنی ہیں کہ متقی آخرت کی زندگی پر یقین رکھتے ہیں اور آخرۃ کا نتز یہ کہ آئندہ آنیوالی موعود باتوں یا وحی پر یقین حاصل ہے" نہ قرآن مجید میں کھلی تعریف ہے حالانکہ اول تو قرآن مجید میں آخرت " کا لفظ دوسرے معانی کیلئے بھی استعمال ہوا ہے مثلاً سورۃ بنی اسرائیل آیت ۱۵ میں ہے: وَإِذَا جَاء وَعْدُ الأخيرة ، حضرت ابن عباس نے وعد الآخرة ، عیسی ابن مریم کو قرار دیا ہے نے اسی طرح سورة ضمی میں آغفرت " کو خطاب ہے کہ وَالآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولى علمائے سلف و خلف تے اس آیت کا ترجمہ یہ کیا ہے " پچھلی حالت بہتر ہے واسطے تیرے پہلی حالت ت" "یقینا رحمن شاہ رفیع الدین تمہارے لئے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے رسید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب) در سر سے قدیم مصر مدت میں حضرت قیاده جیسے نہایت باند یا به بزرگ " یومنون بالغرب" کی تفسیر میں فرماتے ہیں " وصَدَقُوا بموعود الله الذى وعد فى عدا القران یعنی منتقی وہ ہیں جو اللہ۔> 4 " جل در کشور للسيوطى جدا صفحه ۳ تن در شور ناسیوی جلد ۲۵ به