عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 64
خاتم لام الله تم النبین کے الہامی معنوں کی تصدیق و توثیق اس حدیث قدسی سے بھی ہوتی ہے جو مجدد اسلام حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے بروایت حضرت انس بن مالک حلیہ ابو نعیم کے حوالہ سے " الخصائص الکبری" حصہ اول میں درج فرمائی ہے " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ جو شخص مجھ سے اس حال میں ملے کہ وہ احمد مجابی کا منکر ہے تو میں اسے جہنم میں داخل کروں گا۔موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔اے رب احمد کون ہیں؟ فرمایا میں نے کسی مخلوق کو ان سے بڑھ کر مکرم نہیں بنایا اور یکمیں نے انکا نام تخلیق آسمان و زمین سے پہلے عرش پر رکھا بلاشبہ میری تمام مخلوق پر جنت حرام ہے جب تک وہ اور انکی است اس میں داخل نہ ہوں۔حضرت مومنی نے عرض کیا مجھے اس امت کا نبی بنا دے فرمایا نَبِهَا مِنْهَا اس امت کا نبی (یعنی اُمتی نبی۔ناقل ) انہیں میں سے ہوگا۔عرض کیا مجھے اس نبی کا امتی بنادے فرمایا تمہارا زمانہ پہلے ہے اور ان کا زمانہ آخر میں لالے اس حدیث قدسی سے خاتم الانبیاء کے یہ الہامی معنی متعین ہو گئے کہ امتی نبی آئین کا ضرور مگر وہ آسمان سے نہیں اترے گا آنحضرت کے خادموں میں پیدا ہو گا اور اسی کو حدیث مسلم میں آنحضرت نے چار دفعہ نبی اللہ کے خطاب سے یاد فرمایا ہے۔نیز یہ کہ حضرت موسی جیسے اولوالعرم ت الترجمه " الخصائص الكبرى السيوطى جلدا ص ۳۲-۳۵ تا شهر مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی۔