عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات

by Other Authors

Page 53 of 113

عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 53

= ظاہر ہے کہ ان اشعار میں بیٹی حسین اسکے معنی مظلوم کے اور کربلا کے معنی مقام مظلومیت کے ہیں۔نہ کہ بالا سے مراد کربلا کا شہر ہے نہ حسین سے مراد حضرت امام حسین علیہ السلام کی خدا نما شخصیت اور نہ ہر کہ بلا کا کوٹھے مفہوم ہی نہیں بنتا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا کے جاں نثار عاشقوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- گشته او نزیک نه دونہ ہزار این قتیلان او بردن از شمار ہر نہ مانے قتیل تازه بخواست نماز روئے اوردم مشهد است این سعادت چو بود قسمت ما رفته رفته رسید نوبت ما کر بلائے است پیر ہر آنم صد سیدین است در گریبا تم و روان استانی وتزول خدا کے فدائی صرف ایک یا د دیا ہزار نہیں بلکہ اس کے بیشمار شہید میں ہر زمانہ ایک نیا قتیل چاہتا ہے۔اس کے چہرہ کا خانہ شہیدوں کا خون ہے۔یہ سعادت چونکہ ہماری قسمت میں معنی رفتہ رفتہ بہار بھی نوبت بھی آپہنچی۔کربلا میرے ہر آن کی سیر گاہ ہے اور سینکڑوں حسین ولیعنی مظلوم نمیرے گریبان میں ہیں۔یہاں بھی کربلا اور حسین اسکے الفاظ محض استعارہ ہیں اور مطلب یہ کہ اگر چه دشمنان اسلام ہر وقت میرے در بیتے آزار ہیں مگر میرا وجود خدا اور مصطفے کی راہ میں ایسا فقربان ہے کہ اگر میری سوجائیں کبھی ہوں تو وہ دین محمد پر فدا ہونے کو تیار ہیں۔اس مضمون کو آپ نے ایک دوسرے فارسی شعر میں یوں ادا فرمایا ہے در لیفا گرد هم صد جالی وژین ره نباشد نیزت بالا محمد