عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات

by Other Authors

Page 54 of 113

عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 54

ہائے حسرت اگر یکیں اس راہ میں مارا جاؤں اور پھر نہ ندہ کر کے قتل کیا جاؤں اور اسی طرح سو بار اپنی جان محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا کر دوں تو پھر بھی یہ قربانی محمدؐ کی شان بلند کے مقابل بالکل بے حقیقت ہے یہ اس سے بڑھ کر اپنے عاشقانہ تعلق کا نقشہ کھینچتے ہوئے یہانتک فرماتے ہیں سے سرے دارم فدائے خاک احمد دلم ہر وقت قربان محمد میر اسر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی خاک پر فدا ہے اور میرا دل ہر دقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہے۔اس واضع التشریح و توضیح سے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے فارسی کلام سے ہوتی ہے آپ کا بیتال عاشق رسول ہونا بالبداہت ثابت ہو جاتا ہے۔مگر افسوس صد افسوس ! ! بعض خدا تا نترس اذہان و قلوب ان عارفانہ اشعار کو سیاق و سباق سے الگ کر کے ان کو ایسے نئے معنوں میں ڈھال دیتے ہیں جن سے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی تنقیص و تو نہیں لازم آتی ہے اور جن کا تصور کر کے ایک بیچے احمدی مسلمان بن کی روح کانپ جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔حسین رضی اللہ عنہ ظاہر مطہر تھا اور بلاشبہ وہ اُن برگزیدوں میں سے ہے جنگو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلا شبہ وہ سرداران بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کیتہ رکھتا اس سے موجب سلب ایمان ہے اور اس امام کی تقوی اور