عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 50
" نادان انسان ہم پر الزام لگاتا ہے کہ مسیح موعود کو نبی مان کہ گویا ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہننگ کرتے ہیں۔اسے کسی کے دل کا حال کیا معلوم۔اُسے اس محبت اور پیار اور عشق کا علم کس طرح ہو جو میرے دل ی کے سرگوت ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے ہے وہ کیا جانے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میرے اندر کسطرح سرایت کر گئی ہے وہ میری جان ہے میرا دل ہے۔میری مراد ہے۔میرا مطلوب ہے اس کی غلامی میرے لئے عزت کا باعث ہے اور اس کی گفتش برادری مجھے تخت شاہی سے بڑھکر معلوم دیتی ہے اس کے گھر کی جاروب کشی کے مقابلہ میں بادشا صفت ہفت اقلیم ہی ہے وہ خدا تعالی کا پیارا ہے پھر مکیں کیوں اس سے پیار نہ کروں۔وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے پھر سکیں کیوں اس سے محبت نہ کروں وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہے پھر نہیں کیوں اسکا قرب نہ تلاش کروں ، حضرت مصلح موعود کی تحریریں اور تقریریں عشق رسول کے ایسے ہی بیش قیمت لعل و جواہر سے مالا مال ہیں اور سورج کی طرح چمک دمک رہی ہیں انہیں میں سے ایک شاہکار عبادت خطبہ جمعہ ار فروری ۱۹۴۴ء کی ہے جس میں یہ فقرہ اپنے ماحول سے کاٹ کر عوامی ذہن میں ہیجان بلکہ طوفان برپا کرنے کیلئے چھین لیا گیا ہے کہ " اگر محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی شخص پڑھنا چاہے تو بڑھ سکتا ہے شہید بالاکوٹ حضرت شاہ اسمعیل شہید نے تقویۃ الایمان میں سہی مضمون ان دوسہ سے الفاظ میں ادا فرمایا ہے کہ " اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے "