عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات

by Other Authors

Page 42 of 113

عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 42

مثلها (البقره : ۱۰۷) وَاللهُ غَالِبٌ عَلَى اَمرِهِ وَلَكِن اكثر النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ( يوسف : ۲۲) سكتة۔۔۔، بلا شبہ حدیث میں ہے۔انا معشر الأنبياء لانرث ولا نورث کہ ہم انبیاء کا گروہ ہیں جو نہ وارث ہوتا ہے نہ وارث کیا جاتا ہے۔مگر بخاری شریف میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ام المومنين سيدة النساء حضرت عائشہ رض کی یہ تشریح درج ہے " يريد بذالك نفسه دبخاری کتاب المغازی باب حدیث بنی نضیر جلد ۳ طلا ۲ مطبوعہ مصر ) کہ اس سے مراد صرف آنحضرت کا وجود مبارک ہے یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں اسکی تصدیق قرآن مجید کی اس آیت سے ہوتی ہے " ورث سلیمان داؤد ، که حضرت سلیمان حضرت داؤد کے وارث ہوئے ظاہر ہے کہ نبوت ور نہ میں نہیں ملتی لہذا اس جگہ قطعی طور پر وسیع بادشاہت کی وراثت ہی مراد لی جات - آنحضرت سے وصال مبارک پر یہ سوال پیدا ہوا کہ حضور کو دفن ؟ کہاں کیا جائے ؟ بعض صحابہ نے مکہ میں۔بعض نے مسجد نبوی میں اور بعض نے جنت البقیع میں تدفین کا منشورہ دیا مگر دوسروں کی رائے تھی کہ حضور کو بیت المقدس میں دفن کیا جائے اس پر حضرت ابو بکر صدیق نے فرمایا کہ میں نے آنحضرت کی زبان سے سنا ہے " ما من نبي يقيض الأدفن تخت مضجعه الذي مات فیہ ہے جو نبی بھی فوت ہوا اسے اپنے ہا اسی بستر کے نیچے دفن کیا گیا جس میں میں نے وفات پائی سختی ان الفاظ میں تمھیں در تہ والی حدیث کی طرح آنحضرت کا اپنی طرف اشارہ مقصود تھا۔! - ان مسند احمد یا مبلمان و مرا وقن مطبع