عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 40
-۵- قرآن مجید میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَمَلَارُ سَلْنَا مِنْ رَسُولٍ الابلسان قومه و ابراهیم ۵) جس کا مدارک التنزیل اور روح المعانی جیسی مشہور عالم تفسیروں کی رو سے مفہوم صرف یہ ہے کہ نبی جس قوم میں مبعوث ہوتے اسکی زبان بھی بولا کرتے تھے نہ یہ کہ الہام بھی انہیں لانگا انکی قومی زبان میں ہوتا تھا۔چنانچہ حدیث نبوی میں ہے کہ تعدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دس ہزار زبانوں کی قوت سے بھرا ہوا کلایم فرمایا اور حضرت کعب اور حضرت عجلان جیسے اکابر امت کا قول ہے کہ خدا تعو حضرت موسیٰ سے ہر زبان میں ہم کلام ہوا (در منثور للسیوطی جلد (1) سویں صدی ہجری کے امام و مجدد حضرت علامہ علی اتغاری نے "موضوعات کبیر میں تسلیم کیا ہے کہ ان کے ہم عصر مشائخ عند آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فارسی الہامات بیان کرتے ہیں جن میں سے بعض محمدت زمان حضرت علامہ عبد العزیة الفہاروی کی کتاب "کوثر النبی باب الفاء اور حضرت شمس الدین سیالوی ” کے ملفوظات " مرة العاشقین کے صدہ ۲۷ پر درج ہیں علاوہ بریں حدیث نبوی ہے " ان الله ملائكة في الارض تنطق عَلى السِنَةِ بنى ادم ( الديلى عن انس الدر المنتشرة للسیوطی صدام، زمین میں خدا کے ایسے فرشتے ہیں جو انسانوں کی 22 زبان میں کلام کرتے ہیں۔- قرآن کریم کی مشہور لغت مفردات راغب سے پتہ چلتا ہے کہ شعر جھوٹ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔آنحضرت کی ذاتِ اقدس سے اسکی