عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 28
استہزاء میں دوسرے شخص کی تحقیر عقیدہ مقصود ہوتی ہے نہ اور سخر اور استہزاء میں ایک باریک اور لطیف فرق ہے اہل عرب سختر کا لفظ اس شخص کیلئے بطورِ مذاق استعمال کرتے ہیں جس سے واقعی قابل اعتراض فعل بھی سرزد ہو چکا ہو مگر استہزاء کا لفظ کسی ایسے فعل کے ارتکاب کے بغیر بولا جاتا ہے۔حضرت امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں کہ استہزاء مخفی اور ظاہر ہے۔دونوں رنگ میں ہوتا ہے اور عہد حاضر کی مشہور لغت " اقرب الموارد میں امرء کے معنی قتل کے بھی لکھے ہیں۔اس لغوی تحقیق کے مطابق آیت كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُ ون میں انبیاء کے خلاف اعتراضات کا یہ جامع خلاصہ بیان کیا گیا ہے کہ ان میں نبیوں کی حقارت کا جذبہ خاص طور پر کار فرما ہوتا ہے وہ ظاہر اور باطن دونوں طرز پر ہوتے ہیں۔ان کے پیچھے خدا کے پیاروں اور انکی جماعتوں کو ہلاک کر نیکی نیز خواہش موجود ہوتی ہے۔اور کوئی ٹھوس اور معقول بنیاد اُن کی نہیں ہوتی بلکہ وہ صرف اعتراض برائے اغراض ہوتے ہیں جن پر ہنسی ٹھٹھا اور مذاق کا رنگ نمایاں ہوتا ہے اب اگر سم قرآن مجید کی بیان فرموده تاریخ انبیاء کا عموماً اور دوسرے مذہبی عالمی لٹریچہ کا خصوصاً مطالعہ کریں تو استہزاء کے عمل چھ واضح طریق ہمارے سامنے الاستهزاء يقتضى المستهزء به و اعتقاد تحقيره۔الفرق بين الاستهزاء والسخرية ان الانسان يستهزء به من غيران يسبق منه فعل يستهزء من اجله " 11