عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 27
مامورین زبانی سے استہزا چنانچہ اللہ جل شانہ نے اپنے کلام پاک میں قریباً ۳۵ مقامات پر آنحضرت صلی اللہ علیہ استم سمیت گزشتہ انبیاء سے استہزاء کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ ون نے کوئی رسول ہے ال کے پاس ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے استہزاء نہ کیا ہو يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِنْ رَّسُول الاَ كانوا اپه يَسْتَهزء ونا افسوس بندوں پر کبھی ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے استہزاء نہ کیا ہو۔وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ نَبِي إِلا كَانُوا بِهِ يَسْتَهُ و دن سے لوگوں کے پاس کوئی نبی نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے استہزاء نہ کیا ہو لفظ استہزاء کی لغوی تحقیق قرآن مجید کی اعجازی فصاحت و اور اس کے چھ طریق بلاغت کا یہ نقطہ معراج ہے کہ اس نے تاریخ انبیاء پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ تمہاری فرمایا کہ خدا کے برگزیدوں پر اعتراضات ہوتے ہیں بلکہ یہ فرمایا ہے کہ الانہ سے استہزا کیا جاتا ہے لفظ استہران کا بالعموم اردو ترجمہ ہنسی اور مذاق کیا جاتا ہے۔مگہ تیسری صدی ہجری کے شہرۂ آفاق امام لغت اور ممتاز ادیب قلاع من ابو حلالی العسکری نے الفروق التقوير صلاح میں واضح فرمایا ہے کہ الحجر : ۱۲ سے لیس ۳ - الزخرف :