انوار خلافت — Page 71
اے جن کے اہل قوم شر اور فساد میں سب سے بڑھے ہوئے تھے۔ڈاکہ، چوری، راہزنی میں مشہور عام تھے فسق و فجور میں لاثانی تھے۔انسان کا قتل کر دینا ان کے لئے کوئی بات ہی نہ تھی۔ماؤں سے شادی کر لیتے تھے۔علم و تہذیب سے بالکل نا آشنا تھے۔غرضکہ ہر ایک قسم کی خرابی اور جہالت میں گرفتار تھے لیکن ان میں سے نکل کر ان لوگوں نے ایسا پلٹا کھایا کہ یا تو جاہل تھے یا تمام دنیا کے استاد بن گئے اور ایسے استاد بنے کہ اس زمانہ کے جو عالم تھے ان سے اقرار کرایا کہ ہم جاہل ہیں۔اور یا تو فسق و فجور میں مبتلا تھے یا خدا رسیدہ اور خدا نما ہو گئے۔اور یہ وہ قوم تھی جو تھوڑے سے عرصہ میں بجلی کی طرح کوند کر جہاں گرتی وہاں کی سب چیزوں کو بھسم کر دیتی۔اور ایسی مہذب بنی کہ تمام دنیا کے مہذبوں کو اس کے سامنے زانوئے ادب خم کرنا پڑا۔پھر ان میں وہ قدرت اور روشنی پیدا ہوگئی کہ بہت دور دور کی چیزوں تک ان کی نظر پہنچتی۔اور خدا تعالیٰ کی معرفت کے باریک در بار یک راز پا گئی۔اور ایک ایسی قوم بن گئی کہ دنیا کی کوئی قوم اس سے مقابلہ نہ کرسکی۔کیا یہ تجب کی بات نہیں کہ اونٹوں کے چرانے والا ایک شخص عظیم الشان بادشاہ بن گیا اور صرف دنیاوی بادشاہ نہیں بلکہ روحانی بھی۔یہ حضرت عمرؓ تھے جو ابتدائے عمر میں اونٹ چرایا کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ حج کو گئے۔تو راستہ میں ایک مقام پر کھڑے ہو گئے۔دھوپ بہت سخت تھی جس سے لوگوں کو بہت تکلیف ہوئی لیکن کوئی یہ کہنے کی جرأت نہ کرتا کہ آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں۔آخر ایک صحابی کو جو حضرت عمرؓ کے بڑے دوست تھے اور جن سے آپ فتنہ کے متعلق پوچھا کرتے تھے لوگوں نے کہا کہ آپ ان سے پوچھیں کہ یہاں کیوں کھڑے ہیں۔انہوں نے حضرت عمرؓ سے عرض کیا کہ آگے چلئے یہاں کیوں کھڑے ہو گئے ہیں۔فرمایا کہ میں یہاں اس لئے کھڑا ہوا ہوں کہ ایک دفعہ میں اونٹ چرانے کی وجہ سے تھک کر اس درخت کے نیچے لیٹ گیا تھا میرا باپ آیا اور اس نے مجھے مارا کہ کیا تجھے اس لئے بھیجا تھا کہ وہاں جا کر سورہنا۔تو ایک وقت میں میری یہ حالت تھی لیکن میں نے رسول کریم مالیہ و سلم کو قبول کیا تو خدا تعالیٰ نے مجھے یہ درجہ دیا کہ آج