انوار خلافت — Page 157
۱۵۷ کر دے۔چنانچہ حضرت عائشہ کا اونٹ آگے کیا گیا لیکن نتیجہ اور بھی خطرناک نکلا مفسدوں نے یہ دیکھ کر کہ ہماری تدبیر پھر الٹی پڑنے لگی۔حضرت عائشہ کے اونٹ پر تیر مارنے شروع کئے۔حضرت عائشہ نے زور زور سے پکارنا شروع کیا کہ اے لوگو! جنگ کو ترک کرو۔اور خدا اور یوم حساب کو یاد کرو لیکن مفسد باز نہ آئے اور برابر آپ کے اونٹ پر تیر مارتے چلے گئے۔چونکہ اہل بصرہ اس لشکر کے ساتھ تھے جو حضرت عائشہ کے ارد گرد جمع ہوا تھا۔ان کو یہ بات دیکھ کر سخت طیش آیا اور ام المؤمنین کی یہ گستاخی دیکھ کر ان کے غصہ کی کوئی حد نہ رہی اور تلوار میں کھینچ کر لشکر مخالف پر حملہ آور ہو گئے۔اور اب یہ حال ہو گیا کہ حضرت عائشہ کا اونٹ جنگ کا مرکز بن گیا۔صحابہ اور بڑے بڑے بہادر اس کے ارد گرد جمع ہو گئے اور ایک کے بعد ایک قتل ہونا شروع ہوا لیکن اونٹ کی باگ انہوں نے نہ چھوڑی۔حضرت زبیر تو جنگ میں شامل ہی نہ ہوئے اور ایک طرف نکل گئے مگر ایک شقی نے ان کے پیچھے سے جا کر اس حالت میں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ان کو شہید کر دیا۔حضرت طلحہ عین میدان جنگ میں ان مفسدوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔جب جنگ تیز ہوگئی تو یہ دیکھ کر کہ اس وقت تک جنگ ختم نہ ہوگی جب تک حضرت عائشہ کو درمیان سے ہٹایا نہ جائے۔بعض لوگوں نے آپ کے اونٹ کے پاؤں کاٹ دیئے۔اور ہودج اتار کر زمین پر رکھ دیا۔تب کہیں جا کر جنگ ختم ہوئی۔اس واقعہ کو دیکھ کر حضرت علی کا چہرہ مارے رنج کے سرخ ہو گیا لیکن یہ جو کچھ ہوا اس سے چارہ بھی نہ تھا جنگ کے ختم ہونے پر جب مقتولین میں حضرت طلحہ کی نعش ملی تو حضرت علی نے سخت افسوس کیا۔ان تمام واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس لڑائی میں صحابہ کا ہرگز کوئی دخل نہ تھا بلکہ یہ شرارت بھی قاتلان عثمان کی ہی تھی۔اور یہ کہ طلحہ اور زبیر حضرت علی کی بیعت ہی میں فوت ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے ارادہ سے رجوع کر لیا تھا اور حضرت علی کا ساتھ دینے کا اقرار کر لیا تھا۔لیکن بعض شریروں کے ہاتھوں سے مارے گئے چنانچہ حضرت علی نے ان کے قاتلوں پر لعنت بھی کی۔