انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 193

انوار خلافت — Page 86

۸۶ ہے۔اور جہاں مردوں کے لئے حکم آیا ہے وہاں عورتوں کو بھی ساتھ ہی رکھا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ( النساء:۲) اے لوگو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا ہے۔اور تم میں سے ہی تمہارا جوڑا پیدا کیا ہے۔پھر ان دونوں سے بہت سی جانیں نکالی ہیں جو بہت سے مرد ہیں اور بہت سی عورتیں۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس کے نام سے تم سوال کرتے ہو۔اور قرابتوں کا۔بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ تقویٰ کا حکم صرف مردوں کو ہی نہیں بلکہ عورتوں کو بھی ہے۔پس ان کو بھی دین سے واقف کرو۔آنحضرت سالی ایم کی عورتیں دین سے بڑی واقف تھیں یہی وجہ ہے کہ آنحضرت سلیم نے فرمایا کہ تم نصف دین عائشہ سے سیکھ سکتے ہو اور واقعہ میں آدھا دین حضرت عائشہ نے سکھایا ہے۔لوگوں نے اس کے غلط معنے گئے ہیں کہ اس طرح ان کو حضرت ابو بکر حضرت عمر وغیرہ پر فضیلت ہوگئی ہے لیکن یہ غلط ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ رسول اللہ نے حضرت عائشہ کی فضیلت بتائی ہے بلکہ یہ عورتوں کے متعلق جو احکام ہیں وہ ان سے سیکھو۔چنانچہ جب بھی صحابہ کو عورتوں کے متعلق کسی بات میں مشکل پیش آتی تو ان سے ہی پوچھتے۔حضرت عمرؓ کو ایک دفعہ یہ دقت پیش آئی کہ مرد عورت سے صحبت کرے اور انزال نہ ہو تو غسل کرنا چاہئے یا نہیں۔اس کے متعلق انہوں نے لوگوں سے پوچھا لیکن تسلی نہ ہوئی فرمایا دین کے معاملہ میں کیا شرم ہے آنحضرت سلی یا پیلم کی عورتوں سے پوچھنا چاہئے۔پھر انہوں نے اپنی لڑکی سے پوچھا جس نے بتایا کہ غسل کرنا فرض ہے رسول کریم اسی طرح کیا کرتے تھے۔پس اگر آپ کی بیویاں آپ سے اس قسم کے احکام نہ سیکھتیں تو یہ باتیں ہم تک کس طرح پہنچتیں۔حالانکہ ان میں سے بعض ایسے مسائل ہیں کہ اگر