انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 193

انوار خلافت — Page 84

۸۴ گئے ہیں اور لاکھوں نے دوسرے مذاہب کو اختیار کر لیا ہے۔اور ایسے انسان جو سیدوں کے گھر پیدا ہوئے تھے۔آج رسول کریم مالی یہ تم کو گالیاں دیتے اور برا بھلا کہتے ہیں اور اسلام کو ایک جھوٹا مذہب قرار دیتے ہیں۔جب میں حج کرنے گیا تو میرے ساتھ جہاز میں دو تین نوجوان بیٹھے ہوئے تھے جو ولایت پڑھنے کے لئے جارہے تھے وہ اسلام کی حمایت میں بڑے زور اور جوش سے باتیں کرتے۔ایک کہتا اگر یوں ہو تو یوں ہو جائے۔دوسرا کہتا اگر یوں ہو تو یوں ہوسکتا ہے۔میں نے ان کی کسی بات پر کہا کہ قرآن شریف میں تو یوں لکھا ہے۔ایک نے مجھے ہنس کر کہا قرآن کو کون مانتا ہے میں نے کہا ادھر تو تم اسلام کی حمایت میں بڑی بڑی باتیں کر رہے تھے اور ادھر کہتے ہو کہ قرآن کو کون مانتا ہے یہ کیا ؟ اس نے کہا میں رسول اللہ کی تو عزت کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے ایک متحد قوم تیار کر دی اور دنیا کو بہت فائدہ پہنچایا لیکن میں قرآن کی کوئی عزت نہیں کرتا۔میں نے کہا رسول کریم نے قرآن شریف خود تو نہیں لکھا یہ تو خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔کہنے لگا یہ انہوں نے لوگوں کو منوانے کے لئے کہ دیا ہے ور نہ خدا کیا اور اس کی کتاب کیا۔میں نے ان باتوں سے سمجھ لیا کہ اسے اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔میں بہت دیر تک اسے سمجھا تا رہا لیکن خدا ہی جانتا ہے کہ اس پر کوئی اثر ہوا یا نہیں۔مگر اتنا میں نے دیکھا کہ جس دن ہم نے جدا ہونا تھا اس سے ایک دن پہلے ایک ہندو دہریہ نے جو اس کے ساتھ ہی کا تھا خدا تعالیٰ کی نسبت کوئی سخت لفظ کہا تو وہ اس کے پاس آکر کہنے لگا خدا کی نسبت ایسا نہ کہو۔یہ الفاظ سن کر میرا دل دھڑکتا ہے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ متاثر ضرور ہوا۔غرض لوگ ناواقفی کی وجہ سے اسلام کو چھوڑ رہے ہیں۔اگر ان کو واقف کر دیا جائے تو وہ سچے مسلمان بن سکتے ہیں۔وہ شخص جس کو ہیرے کی قدر ہی معلوم نہ ہو وہ اسے پھینکتا ہے لیکن جسے معلوم ہو کہ یہ نہایت قیمتی چیز ہے وہ حتی الوسع کبھی اس کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔میں نے علم کے حاصل کرنے کی یہ تجاویز کی ہیں سوان کو کام میں لانے کی تم لوگ کوشش