انوار خلافت — Page 80
۸۰ میں سے میں نے ایک کو دیکھا ہے کہ ایک ٹانگ پر بوجھ ڈالے اور دوسری کو ڈھیلا چھوڑے نماز پڑھا کرتا تھا۔اور ایک دیوار سے ٹیک لگا کر پڑھتا تھا وجہ یہ کہ اس نے حضرت صاحب کو اس طرح پڑھتے دیکھا تھا۔حالانکہ آپ بیمار تھے اور بعض دفعہ یک لخت آپ کو دوران سرکا دورہ ہو جاتا تھا۔جس سے گرنے کا خطرہ ہوتا تھا اس لئے آپ ایسے وقت میں کبھی سہارا لے لیا کرتے تھے۔ان لوگوں نے تکبر اور بڑائی کی وجہ سے باوجود حضرت مسیح موعود کی صحبت پانے کے کچھ نہ سیکھا۔ان میں سے ایسے بھی تھے کہ حضرت صاحب کے سامنے بیٹھے ہوئے اپنی لات پر مکیاں مار رہے ہوتے۔اور آہا ہا ہا ہا کرتے۔کوئی ادب اور کوئی تہذیب ان کو نہ ہوتی۔میں ان کو دیکھ کر تعجب ہی کیا کرتا تھا کہ یہ کس طرح کے لوگ ہیں۔غرض وہ خالی آئے اور خالی ہی چلے گئے۔لیکن تم ڈرو کہ خدا تعالیٰ کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے۔وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے احکام کی قدر نہیں کرتے اور ان کو سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔خدا تعالیٰ بھی ان کو نہیں چاہتا کہ اپنے قرب میں جگہ دے۔پس میں نے قرآن شریف کے پڑھنے کے لئے یہ تجویزیں کی ہیں ان سے فائدہ اٹھاؤ اور کچھ حاصل کرلو۔غرض جماعت کو علم دین سکھانے کی دوسری تدبیر ایسے ٹریکٹوں کا شائع کرنا ہے جن میں مختلف ضروری مسائل ہوں۔فی الحال ایک رسالہ مسئلہ زکوۃ پر لکھا گیا ہے جو کل چھپ جائے گا۔(چھپ گیا ہے ) اس کا آپ لوگ خوب مطالعہ کریں اور ان احکام پر عمل کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔زکوۃ کے متعلق کئی قسم کی غلط باتیں مشہور ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ صرف رجب کے مہینہ میں زکوۃ دی جاسکتی ہے۔بعض کچھ اور کہتے ہیں اور پھر کئی قسم کے بہانے اور ذریعے زکوۃ نہ دینے کے نکالے جاتے ہیں۔حضرت خلیفہ مسیح الاول فرماتے تھے کہ ایک شخص بڑا مالدار تھاوہ جب زکوۃ دیتا تو اس طرح کرتا کہ ایک گھڑے میں روپے ڈال کر اوپر تھوڑے سے گندم کے دانے ڈال دیتا اور ایک غریب طالب علم کو بلا کر کہتا کہ میں نے یہ مال تمہیں دے دیا ہے تم اسے قبول