انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 193

انوار خلافت — Page 79

۷۹ ہے۔اس طرح ہماری ساری جماعت کے لوگ جہاں جہاں بھی ہوں گے وہیں قرآن شریف سیکھ لیں گے۔ہمارا کام ہے کہ چیز تیار کر کے قوم کو دے دیں آگے جس کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ فائدہ اٹھائے۔ہم کسی کو زبردستی نہیں سکھا سکتے اس لئے جس کا دل چاہتا ہے خدا تعالیٰ کی باتوں کو سیکھے آنحضرت ملا لیا پیام کی باتوں سے واقف ہوا اور حضرت مرزا صاحب کی باتوں سے آگاہ ہو ہم اپنی طرف سے ایسے لوگوں کے لئے آسانی بہم پہنچانے کی حتی الوسع کوشش کریں گے تے۔قرآن شریف کا ایک تو وہ ترجمہ ہو گا جس میں نوٹ اور ترجمہ ہوگا لیکن یہ علیحدہ ہوگا جس میں الگ الگ الفاظ کے معنی لکھے جائیں گے۔اس سے آئندہ انشاء اللہ بہت آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔موجودہ صورت میں قرآن شریف کے با ترجمہ پڑھنے میں بہت سی مشکلات ہیں۔مثلاً آن ایک لفظ ہے جس کے معنی خاص کے ہیں۔یہ جس لفظ پر آئے اس کے معنوں کو خاص کر دیتا ہے یہ حرف قرآن کریم میں سینکڑوں جگہ پر آتا ہے لیکن چونکہ یہ حرف جب آتا ہے دوسرے حرف سے مل کر آتا ہے۔اس لئے عربی زبان سے ناواقف انسان ہر جگہ استاد کا محتاج ہوتا ہے لیکن اگر کسی کو ان کے معنی الگ بتا دیئے جائیں تو اس ایک حرف سے اسے گویا سینکڑوں مقامات آسان ہو جائیں گے۔اب یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص مثلاق در کے معنی جانتا ہے۔مگر جب القادِرُ آ جائے تو وہ کوئی اور لفظ سمجھنے لگ جاتا ہے۔پس جب اسے ان کے معنی معلوم ہوں گے تو جہاں بھی اور جس لفظ پر بھی یہ آئے گا۔اس کے معنی وہ خود کر لے گا۔اور اس طرح ایک لفظ کے معنی جاننے سے اسے سینکڑوں الفاظ آجائیں گے۔دوسری تجویز یہ ہے کہ جیسا میں نے ۱۲ / اپریل ۱۹۱۴ء کے جلسہ میں بتایا تھا۔خاص خاص مسائل پر چھوٹے چھوٹے ٹریکٹ لکھے جائیں تا کہ عام لوگ ان کو پڑھ کر مسائل دین سے پوری طرح واقف ہو جائیں تا ایسا نہ ہو کہ بعض پاک ممبر کہلانے والوں کی طرح ان کی جرابیں ایڑیوں سے پھٹی ہوئی ہوں اور انہیں کوئی پرواہ نہ ہو۔انہی پاک ممبر کہلانے والوں