انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 193

انوار خلافت — Page 68

۶۸ آپ کا یہی نام ہوا۔میں کہتا ہوں کون مسلمان ہے جو اپنے آپ کو غلام احمد نہیں کہتا۔ہر ایک سچا مسلمان اور مؤمن یہی کہے گا کہ میں احمد کا غلام ہوں۔اسی طرح فرمایا ہے۔چنانچہ آپ ایک اور جگہ فرماتے ہیں کرامت گرچہ بے نام ونشان است بیا بنگر ز غلمان محمد اب اس شعر سے کوئی احمق ہی یہ نتیجہ نکالے گا کہ جس شخص کا نام غلام محمد ہو وہ کر امت دکھا سکتا ہے۔پس پہلے شعر میں صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ آنحضرت سانا ہیم کا ایک غلام سیح سے بہتر ہوسکتا ہے۔غرض کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کے بعد کوئی نبی نہ آئے تو اس طرح آپ کی تعریف ہوتی ہے لیکن یہ عجیب تعریف ہے۔مثلاً ایک مدرس کی یوں تعریف کی جائے کہ اس کے پڑھائے ہوئے لڑکے کبھی پاس نہیں ہوتے بلکہ فیل ہی ہوتے ہیں اور اگر پاس بھی ہوتے ہیں تو بہت ادنی درجہ پر۔کیا یہ اس کی تعریف ہوگی اور اس سے اس کی عزت بڑھے گی۔یہ تو اس پر ایک بہت بڑا حملہ ہو گا۔اسی طرح مسلمان کہتے ہیں کہ بیشک آنحضرت مالی سیستم تمام انبیاء کے سردار ہیں تمام سے بلند درجہ رکھتے ہیں اور تمام سے کمالات میں بڑھے ہوئے ہیں لیکن اس کا ثبوت یہ دیتے ہیں کہ آپ کے شاگرد بھی اعلی درجہ نہیں پاتے۔اور اس طرح رسول کریم الم اسلام کی سخت ہتک کرتے ہیں۔لیکن باوجود اس کے ہم پر الزام دیتے ہیں کہ تم آنحضرت الای ایلام کی ہتک کرتے ہو۔لیکن در حقیقت وہ آپ کی ہتک کر رہے ہیں۔اور وہ جو رحمتہ للعالمین ہے اس کو عذاب للعالمین ثابت کرتے ہیں۔ہمیں اس بات کا فخر ہے کہ ہم آنحضرت صلا ایلم کی سچی عزت اور تعریف کرتے ہیں۔اور ہم عیسائیوں کو کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی یمن کی وہ عزت ہے کہ اس کا غلام بھی تمہارے نبیوں سے بڑھ کر ہے۔لیکن دوسرے لوگوں کو یہ فخر حاصل نہیں ہے۔بھلا بتلاؤ ایک بادشاہ کا درجہ بڑا ہوتا ہے یا شہنشاہ کا۔ہر ایک جانتا ہے کہ شہنشاہ کا درجہ بڑا ہوتا ہے۔تو رسول اللہ کی نسبت خیال کرو کہ ہم آپ کی یہ شان بیان کرتے ہیں کہ آپ کی غلامی میں نبی آئیں گے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ دوسرے تمام نبی