انوار خلافت — Page 52
نویں دلیل ۵۲ اس سورۃ سے اگلی سورۃ میں جو اس کے ساتھ ہی ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِي بَعَتَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أيتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب والْحِكْمَةَ، وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِين ( الجمعہ: ۳) اور اس کے بعد فرماتا ہے وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ( الجمعہ: ۴) اور وہ اس رسول کو ایک اور جماعت میں مبعوث کرے گا جواب تک تم سے نہیں ملی۔ان آیات میں آنحضرت سلیم کی دو بعثشوں کا ذکر ہے اور چونکہ احادیث سے آپ کے بعد ایک مسیح کا ذکر ہے جس کی نسبت آپ نے یہاں تک فرمایا ہے کہ وہ میری قبر میں دفن ہوگا۔یعنی وہ اور میں ایک ہی وجود ہوں گے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری بعثت سے مراد مسیح موعود ہی ہے۔کیونکہ اسلام تناسخ کا قائل نہیں کہ یہ خیال کیا جائے کہ آپ خود ہی دوبارہ تشریف لائیں گے اس لئے آپ کی بعثت ثانیہ سے صرف یہی مراد لی جاسکتی ہے کہ کوئی شخص آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر آئے گا۔اور وہ سوائے مسیح موعود کے اور کوئی نہیں ہوسکتا جس کی نسبت فرمایا ہے کہ وہ میری قبر میں دفن ہو گا۔(مشکوۃ کتاب الفتن باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) اب ہم جب پہلی سورۃ کے ساتھ اس کو ملاتے ہیں تو اس میں بھی پہلے حضرت موسیٰ کا ذکر ہے اور پھر حضرت مسیح کا۔پھر اس سورۃ میں آنحضرت سال پیام کی دو بعثشوں کا ذکر ہے جن میں سے ایک مسیح کی بعثت کے رنگ میں ہوئی ہے۔ان دونوں باتوں کو ملا کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلی سورۃ میں احمد کی جو پیشگوئی ہے وہ اسی بات کو بتانے کے لئے ہے کہ جس طرح اس امت میں مثیل موسی" ہوا ہے مثیل مسیح بھی احمد کے نام سے ظاہر ہو گا۔چنانچہ اس بات کو صاف کرنے کے لئے سورۃ جمعہ میں رسول کریم کی دو بعثتوں کا ذکر فرما دیا۔تا دانا انسان سمجھ لے کہ احمد سے مراد آپ کی بعثت ثانیہ ہے نہ کہ اول۔کیونکہ اس سے پہلے موسیٰ “ کا واقعہ بیان ہو چکا