انوار خلافت — Page 39
۳۹ کے یہ معنی نہیں اور غلام محمد سے یہاں نام مراد نہیں بلکہ صفت مراد ہے کہ جو محمد کا غلام ہو۔اسی طرح پہلے شعر میں بھی غلام احمد سے آپ کا نام مراد نہیں بلکہ آپ کی صفت مراد ہے پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہم کب کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کا پورا نام غلام احمد نہ تھا ہم تو خود تسلیم کرتے ہیں کہ پورا نام آپ کا غلام احمد ہی تھا لیکن اس تمام نام میں سے اصل حصہ نام کا احمد تھا اور غلام صرف خاندانی علامت کے طور پر بڑھا دیا گیا تھا۔اسی وجہ سے کہیں آپ اپنا نام غلام احمد لکھتے تھے اور کہیں احمد۔اور اصل نام وہی ہوتا ہے جو نام کا چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا ہو اور جسے انسان الگ استعمال کرتا ہو۔دوسری دلیل دوسری دلیل آپ کے اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُّبِين (الصف:۷) پس جب وہ رسول کھلے کھلے نشانات کے ساتھ آ گیا تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو سحر مبین ہے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ رسول آئے گا تو لوگ ان دلائل و براہین کوسن کر جو وہ دے گا کہیں گے کہ یہ تو سحر مبین ہے یعنی کھلا کھلا فریب یا جادو ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود سے یہی سلوک ہوا ہے۔جب آپ نے زبر دست دلائل اور فیصلہ کن براہین اپنے مخالفوں کے سامنے پیش کئے تو بہت سے لوگ چلا اٹھے کہ باتیں تو بہت دلربا ہیں لیکن ہیں جھوٹ۔اور بہتوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ کی تحریر میں کچھ ایسا جادو ہوتا ہے کہ پڑھنے والے کو اپنی طرف مائل کر لیتی ہے اس لئے اس کو پڑھنا نہیں چاہئے۔اور گو خواجہ صاحب نے سیالکوٹ میں لیکچر دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرزا صاحب کو چونکہ کسی نے جادوگر نہیں کہا اس لئے وہ اس پیشگوئی کے مصداق نہیں ہیں مگر سینکڑوں آدمی ایسے ہیں جنہوں نے کہا کہ مرزا صاحب کو جاد و آتا ہے اور اب بھی بہت سے ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کو جادو آتا تھا۔