انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 193

انوار خلافت — Page 36

۳۶ اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی۔اور احمد اور عیسی اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔اسی کی طرف یہ اشارہ ہے وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَذَكَر ہمارے نبی لای لای من فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیشگوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا۔“ (روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۶۳ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو ہی قرار دیتے ہیں کیونکہ آپ نے اس میں دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اگر رسول کریم مالی پانی اس جگہ مراد ہوتے تو محمد واحمد کی پیشگوئی ہوتی۔لیکن یہاں صرف احمد کی پیشگوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ے کہ یہ کوئی اور شخص ہے جو مجر داحمد ہے پس یہ حوالہ صاف طور پر ثابت کر رہا ہے کہ آپ احمد تھے بلکہ یہ کہ اس پیشگوئی کے آپ ہی مصداق ہیں اور اگر کسی دوسری جگہ پر آپ نے رسول کریم اللہ تم کو بھی اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے تو اس کے یہی معنی ہیں کہ بوجہ اس کے کہ کل فیضان جو حضرت مسیح موعود کو پہنچا ہے آپ ہی سے پہنچا ہے اس لئے جو خبر آپ کی نسبت دی گئی ہے اس کے مصداق رسول کریم ملایی تم بھی ضرور ہیں کیونکہ جو خوبیاں ظل میں ہوں اصل میں ضرور ہونی چاہئیں۔پس عکس کی خبر دینے والا ساتھ ہی اصل کی خبر بھی دیتا ہے پس اس آیت میں ضمنی طور پر رسول کریم صلا لا اسلم کی بھی بر دی گئی ہے اور اس بیان سے یہ واجب نہیں آتا کہ اس پیشگوئی کے مصداق حضرت مسیح موعود نہ ہوں۔اس کے اصل مصداق حضرت مسیح موعود ہیں اور اس لحاظ سے کہ آپ کے سب کمالات آنحضرت صلی یا یہ تم سے حاصل کئے ہوئے ہیں۔رسول کریم صلی پریتم کی بھی پیشگوئی اس میں سے نکل آتی ہے۔دسواں ثبوت حضرت مسیح موعود کے احمد ہونے کا دسواں ثبوت یہ ہے کہ انجیل میں لفظ احمد کہیں