انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 193

انوار خلافت — Page 25

۲۵ ہیں تو ان دو معنوں میں سے یہاں کون سے لگائے جائیں۔قرآن کریم میں اسم بمعنی صفات کے آیا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَهُ الْأَسْمَاء الْحُسْنَى (الحشر : ۲۵) یعنی سب اچھے نام خدا تعالیٰ کے ہیں لیکن یہ بات ثابت ہے کہ اسم ذات تو اللہ تعالیٰ کا ایک ہی ہے یعنی اللہ۔باقی تمام صفاتی نام ہیں نہ کہ ذاتی۔پس قرآن کریم سے ثابت ہے کہ اسم بمعنی صفت بھی آتا ہے بلکہ قرآن کریم میں تو صفات الہیہ کا لفظ ہی نہیں ملتا۔سب صفات کو اسماء ہی کہا گیا ہے اور جبکہ اسم بمعنی صفت بھی استعمال ہوتا ہے تو حدیث کے معنی کرنے میں ہمیں کوئی مشکل نہیں رہتی۔اس میں آنحضرت صلی یہ تم نے اپنی صفات گنوائی ہیں کہ میری اتنی صفات ہیں۔میں محمد ہوں یعنی خدا نے میری تعریف کی ہے میں احمد ہوں کہ مجھ سے زیادہ خدا تعالیٰ کی تعریف کسی اور شخص نے بیان نہیں کی۔میں ماحی ہوں کہ میرے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے کفر مٹانا ہے۔میں حاشر ہوں کہ میرے ذریعہ سے ایک حشر برپا ہوگا۔میں عاقب ہوں کہ میرے بعد اور کوئی شریعت لانے والا نبی نہیں۔اور اگر اس حدیث کے ماتحت رسول کریم ملایا کہ ان کا نام احمد رکھا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آپ کا نام ماحی بھی تھا اور حاشر بھی تھا اور عاقب بھی تھا۔حالانکہ سب مسلمان تیرہ سو سال سے متواتر اس بات کو تسلیم کرتے چلے آئے ہیں کہ ماحی اور عاقب اور حاشر آپ کی صفات تھیں نام نہ تھے۔پس جبکہ ایک ہی لفظ پانچوں ناموں کے لئے آیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک جگہ اس کے معنی نام لئے جائیں اور ایک دوسرے لفظ کے متعلق اسی لفظ کے معنی صفت لئے جائیں۔غرض اس جگہ اسماء سے مراد نام لئے جائیں تو پانچوں نام قرار دینے پڑیں گے جو کہ بالبداہت غلط ہے۔اور اگر صفت لئے جائیں تو اس حدیث سے اسی قدر ثابت ہوگا کہ آنحضرت سال شما پیام کی صفت احمد بھی تھی اور اس بات سے کسی کو بھی انکار نہیں بلکہ انکار کرنے والا مؤمن ہی نہیں ہوسکتا ممکن ہے کہ کوئی شخص اس حدیث سے یہ استدلال کرے کہ رسول کریم مالی اسلام نے محمد واحمد کی تو تشریح