انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 193

انوار خلافت — Page 24

۲۴ ہے کہ فارقلیط والی پیشگوئی میں اسمُهُ أَحْمَدُ والی پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے۔ان دونوں میں کوئی تعلق دلائل سے ثابت نہیں کہ ہم ان دونوں پیشگوئیوں کو ایک ہی شخص کے حق میں سمجھنے کے لئے مجبور ہوں۔شاید بعض لوگ میرے مقابلہ میں بخاری کی حدیث پیش کریں۔عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ لِي أَسْمَاء أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللهُ فِي الْكُفْرَ وَانَا الْحَاثِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمَى وَانَا الْعَاقِبُ والْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِي (مشكوة كتاب الأداب باب اسماء النبى وصفاته) آنحضرت صلی سیستم فرماتے ہیں کہ میرے کئی نام ہیں۔میرا نام محمد ہے میرا نام احمد ہے میرا نام ماحی ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ سے کفر کو مٹائے گا۔میرا نام حاشر ہے کہ لوگ میرے قدموں پر اٹھائے جائیں گے اور میرا نام عاقب ہے اور عاقب کے معنی ہیں وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔غیر مبائعین کہتے ہیں کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت سیل پی ایم کا نام احمد تھا مگر یہ ایسی ہی بات ہے جیسا ایک آریہ کہے کہ قرآن میں چونکہ خدا کی نسبت مکر کرنے والا آیا ہے اس سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا خدا مکار ہے۔چونکہ آریہ نہیں جانتے کہ مکر کا لفظ اگر اردو میں استعمال ہو تو برے معنی لئے جاتے ہیں اور عربی میں برے معنوں میں نہیں آتا اس لئے وہ اس کو قابل اعتراض سمجھتے ہیں۔حالانکہ عربی میں مکر کے معنی ہیں تد بیر کرنا اور چونکہ قرآن شریف عربی زبان میں ہے اس لئے مکر کے وہی معنی کرنے چاہئیں جو عربی زبان میں مستعمل ہوتے ہیں نہ کہ اردو کے معنی۔یہی بات یہاں ہے۔ان لوگوں کو یہ دھوکا لگا ہے کہ اس حدیث میں لفظ اسماء کا آیا ہے۔اردو میں چونکہ اسم نام کو ہی کہتے ہیں اس لئے انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ رسول کریم کے یہ سب نام ہیں حالانکہ عربی میں اسم بمعنی صفت بھی اور اسم بمعنی نام بھی آتا ہے۔انہیں سوچنا چاہئے تھا کہ جب اسم کے دو معنی