انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 193

انوار خلافت — Page 191

۱۹۱ میں ظلمت اور تاریکی پھیل گئی فسق و فجور بڑھ گیا اور ایسی گمراہی پھیل گئی کہ اس کی نظیر اس سے پہلے کے کسی زمانہ میں نہیں ملتی تو تمام نبیوں کی روحوں کو کرب اور اضطراب ہوا کہ ہماری امتیں گمراہ ہورہی ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے ان کے اضطراب اور ان کی دعاؤں کے ماتحت ایک مصلح کو دنیا میں مبعوث کیا۔اور ہر ایک نبی کی توجہ اور دعا کی قبولیت کے اظہار کے لئے اس مصلح کو اسی نبی کا نام دیا۔دسویں حکمت یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود کا نام بدھ ، کرشن مسیح اور محمد نہ رکھا جاتا تو رسول اللہ صلی الی یوم کی اس میں سخت ہتک ہوتی۔اور اگر ان کا مثیل کہا جاتا تو بھی بڑی ہتک ہوتی کیونکہ آنحضرت صلی یا اسلام نے تو فرمایا کہ لَوْ كَانَ مُوسى وَعِيسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتباعی ( الیواقیت والجواہر مرتبہ امام شعرانی جلد ۲ صفحہ (۲۲) اگر موسیٰ اور عیسی زندہ ہوتے تو انہیں میری اطاعت کے بغیر کوئی چارہ ہی نہ ہوتا۔اگر اس بات کا کوئی ثبوت دنیا کے سامنے پیش نہ کیا جاتا تو لوگ کہہ دیتے کہ (نعوذ باللہ) یہ بڑ مار دی ہے اس کا کیا ثبوت ہے کہ وہ آپ کی اتباع کرتے۔خدا تعالیٰ نے اس بات کو دور کرنے کے لئے یہ کیا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو ان نبیوں کے کمالات کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ کو تمام نبیوں کے نام سے یاد کیا۔موسیٰ بھی کہا۔عیسی بھی کہا۔ابراہیم بھی کہا۔داؤ بھی کہا۔اور پھر جرمی اللهِ فِي حُلّلِ الانبیاء کہہ کر سب نبیوں کے نام آپ کے نام رکھے اور پھر اس کے ساتھ آپ کو غلام احمد بھی کہا اور اس طرح رسول کریم این ایم کے قول کی سچائی ثابت کی۔کیونکہ جبکہ ایک شخص ان سب انبیاء کے کمالات کا جامع ہو کر رسول کریم صلی ہی ان کا علم کہلایا۔تو اگر ان ناموں کے مصداق الگ الگ دنیا میں زندہ ہوتے تو رسول کریم صلی ایتم کی کیوں غلامی نہ کرتے۔پس تمام نبیوں کے نام حضرت صاحب کو دے کر رسول کریم صلی یا اسلام کے دعوے کی تصدیق کی گئی