انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 193

انوار خلافت — Page 190

۱۹۰ غلط ہے۔لیکن اگر آنے والے نبی کو مثیل کہا جاتا تو اس سے تناسخ کا رد نہ ہو سکتا تھا۔لیکن جب انہی کا نام رکھا گیا اور وہ نہ آئے بلکہ ان کے رنگ میں ایک شخص آیا تو یہ بات ثابت ہوگئی کہ جب خدا تعالیٰ نے ایک شخص کا نام لیا تھا کہ وہ دوبارہ آئے گا اور پھر بھی وہ دوبارہ دنیا میں نہ آیا بلکہ اس کا مثیل آیا۔تو بلا وعدہ کے پہلی ارواح کس طرح واپس آسکتی ہیں۔آٹھویں حکمت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے نبیوں اور پیاروں کی عزت کو بڑھاتا ہے۔جب تمام دنیا میں اندھیر ہو گیا لوگ خدا کو چھوڑ کر فسق و فجور میں پڑ گئے اور اس بات کی ضرورت ہوئی کہ ایک مصلح بھیجا جائے اور ادھر اللہ تعالیٰ نے پسند نہ فرمایا کہ رسول کریم صلی اہیم کی نسبت یہ کہا جائے کہ آپ کی امت کے بگڑنے پر فلاں شخص نے آکر اس کی اصلاح کی پس اس آنے والے کو آپ کا بروز اور مثیل بنایا اور غیریت کو بالکل مٹانے کے لئے آپ کا نام اسے دیا تا یہ نہ کہا جائے کہ محمد الیای من کی امت کے بگڑنے پر کسی اور نے اس کی اصلاح کی بلکہ یہی کہا جائے کہ امت محمدیہ کی اصلاح محمد نے ہی کی۔لیکن گو آپ کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ ایک نیا طریق اختیار کیا تھا مگر چونکہ دوسرے انبیاء کی امتوں کی اصلاح بھی اسی شخص کے سپر دتھی اس لئے ان کے نام بھی اس آنے والے کو دیئے گئے کیونکہ جب خدا تعالیٰ فضل کرتا ہے تو اس کا فضل وسیع ہو جاتا ہے۔غرض اس طرح کی عجیب عجیب حکمتیں تھیں جن کے لئے ایک ہی انسان کو بھیجا گیا۔اور آنحضرت صلی یا اسلم کی امت سے بھیجا گیا۔نویس حکمت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے اور حدیث و قرآن کے مطابق لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کے پیاروں کو جبکہ وہ فوت ہو جاتے ہیں دنیا کے حالات بتائے جاتے ہیں۔پس جب دنیا