انوار خلافت — Page 179
129 نام بھی آپ کے نام تھے۔جو اس بات سے انکار کرتا ہے گویا وہ آپ کے جامع کمالات انبیاء ہونے سے بھی انکار کرتا ہے۔پس جبکہ آنحضرت صالی یہ اہم کے اتنے ہی نام ہیں جتنے تمام انبیاء تھے تو یہ کون سے تعجب کی بات ہے۔اگر حضرت مسیح موعود نے کہا ہے کہ میں محمد ہوں میں کرشن ہوں میں بدھ ہوں۔یہ ایسا کھلا کھلا مسئلہ ہے کہ انسان تھوڑ اسا غور کرے تو اس پر روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے اور اسے کچھ شک وشبہ نہیں رہ جاتا۔غرض میں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کچھ لوگوں نے آنا ہے اور ان کے آنے کے متعلق کچھ علامتیں مقرر ہیں جو اس وقت پوری ہوگئی ہیں اور جب علامتیں پوری ہوگئی ہیں تو کوئی ان کے آنے سے انکار نہیں کر سکتا۔حضرت کرشن کے متعلق جو پیشگوئیاں تھیں وہ پوری ہوگئی ہیں اور واقعات نے شہادت دے دی ہے۔اس لئے ان کے آنے کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔حضرت بدھ کی آمد کی نسبت جو خبریں اور علامتیں تھیں وہ پوری ہوگئی ہیں اس لئے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ نہیں آئیں گے۔اسی طرح حضرت مسیح کی آمد کے متعلق انجیل میں جو بشارتیں تھیں وہ پوری ہوگئی ہیں۔اسی طرح آنحضرت صان اسلام کے دوبارہ آنے کے متعلق جو بشارتیں تھیں ان کی آسمان اور زمین گواہی دے رہے ہیں۔پس ان انبیاء کا آنا ضروری ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اصل تو واپس نہیں آسکتے اور نہ ہی ان کی روحیں کسی بدن میں داخل ہو کر آسکتی ہیں اس لئے یہی ماننا پڑتا ہے کہ ان کی صفات اور خصوصیات کا حامل کوئی اور آئے گا اور وہ ایک ہی شخص میں ہوں گی جو ان کی صفات رکھنے کی وجہ سے انہی کے نام بھی پائے گا۔ایک ضمنی اعتراض اور اس کا جواب اب میں نے یہ تو بتا دیا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے کرشن ، بدھ مسیح اور محمد نام ہونے سے یہ مراد ہے کہ آپ میں ان کی خوبیاں اور صفات پائی جاتی ہیں۔لیکن اس پر ایک ضمنی اعتراض