انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 193

انوار خلافت — Page 174

۱۷۴ ہیں کہ میرے کئی نام ہیں۔میرا نام محمد ہے کیونکہ میں سب انسانوں سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے حضور تعریف کیا گیا ہوں۔میں احمد ہوں کہ مجھ سے بڑھ کر خدا کی تعریف کرنے والا کوئی نہیں۔میں حاشر ہوں کہ دنیا کو اس کی روحانی موت کے بعد پھر زندہ کروں گا۔میں ماحی ہوں کہ دنیا کے کفر اور ضلالت کو مٹانے والا ہوں۔میں عاقب ہوں کہ میرے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا نبی نہیں ہوسکتا۔پس اگر آنحضرت سایلیا میم کے پانچ نام ہو سکتے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود کے چار نام کیوں نہیں ہو سکتے۔اس میں تعجب کی کونسی بات ہے۔اور خدا تعالیٰ کے تو ننانوے نام کہے جاتے ہیں۔ہمارے نزدیک تو خدا تعالیٰ کے ہزار ہا نام ہیں لیکن اگر ننانوے ہی تسلیم کئے جائیں۔تب بھی بات صاف ہے اگر ایک ہستی کے ننانوے نام ہو سکتے ہیں تو چار نام ایک جگہ کیوں جمع نہیں ہو سکتے۔اور یہ تو صفاتی ناموں کا حال ہے۔ہم تو دیکھتے ہیں کہ اسم ذات بھی بعض دفعہ ایک سے زیادہ ہوتے ہیں مثلاً ہمارا ہی چھوٹا بھائی تھا جس کا مبارک احمد بھی نام تھا۔اور دوست احمد بھی کئی لڑکوں کے نام نھیال والے اور رکھتے ہیں اور ددھیال والے اور بعض کا تاریخی نام کچھ اور ہوتا ہے اور عام مشہور نام کوئی اور۔پس جب عام طور پر متعدد نام ہوتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ایک شخص کے نام کرشن ، بدھ مسیح ، مہدی ، احمد اور غلام احمد نہ ہوں۔جب دنیا میں اور کئی شخصوں کے کئی نام ہوتے ہیں۔اور اس کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔تو یہ بھی تعجب کی کوئی بات نہیں کہ ایک ہی شخص پہلے کئی اشخاص کے نام پالے۔ہاں یہ تعجب کی بات ہے کہ پہلے ہی اصل شخص پھر آجائیں۔لیکن ہمارا یہ مذہب ہرگز نہیں کہ حضرت مسیح موعود وہی مسیح ہیں جو بنی اسرائیل کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔یا وہی بدھ ہیں جو بدھ مذہب کا بانی تھا۔یا وہی کرشن ہیں جو ہندوؤں میں بھیجا گیا تھا۔یا وہی محمد الیا ستم ہیں جو تیرہ سو سال ہوئے عرب میں مبعوث ہوئے تھے۔بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان سب کے نام ایک شخص کو دے دیئے ہیں۔اور ایک شخص کے بہت سے نام رکھنا