انوار خلافت — Page 175
۱۷۵ ہرگز قابل تعجب نہیں۔قابل تعجب یا تو یہ بات ہو سکتی تھی کہ پہلے ہی آدمی اپنے اپنے جسم عصری کے ساتھ واپس تشریف لاتے۔یا یہ کہ تناسخ کے مسئلہ کے ماتحت ان کی ارواح دنیا میں آتیں اور ان کی روحیں ایک ہی جسم میں داخل ہو جاتیں۔لیکن ہم تناسخ کے قائل نہیں اور نہ اس بات کے قائل ہیں کہ ان پہلے انبیاء کی ارواح ایک شخص میں آکر داخل ہوگئیں ہیں۔ہم یہ نہیں کہتے چونکہ پہلے مسیح کی روح حضرت مسیح موعود کے جسم میں آگئی ہے اس لئے وہ مسیح کہلاتے ہیں۔یا کرشن کی روح ان کے جسم میں آگئی ہے اس لئے وہ کرشن کہلاتے ہیں۔یا بدھ کی روح آپ میں حلول کر گئی ہے اس لئے آپ بدھ کہلاتے ہیں۔یا آنحضرت سلی یا پیام کی روح مبارکہ نے آپ کے جسم کو اپنا مسکن بنایا ہے اس لئے آپ محمد کہلاتے ہیں۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کئی آدمیوں کے اخلاق اور کمالات حاصل کر کے ان کے نام پا گیا ہے۔اسلام اس عقیدہ کو جائز نہیں رکھتا کہ کوئی روح تناسخ کے چکر میں واپس دنیا میں آئے لیکن بروز کو جائز کہتا ہے کیونکہ تناسخ علیحدہ بات ہے۔تناسخ تو اس کو کہتے ہیں کہ ایک شخص جو وفات پاچکا ہو اس کی روح کو خدا تعالیٰ جنت سے نکالے اور کسی اور جسم میں ڈال دے۔جیسا کہ ہندو کہتے ہیں کہ جو انسان مر جائے اس کی روح مختلف جانوروں کی شکل اختیار کرتی رہتی ہے کبھی مکھی بنتی ہے کبھی کتا کبھی بلی کبھی سور کبھی انسان وغیرہ وغیرہ لیکن یہ ایک لغو بات ہے۔پس ہمارا یہ کہنا کہ حضرت کرشن ، بدھ مسیح اور آنحضرت صالی ایم ایم آئے۔اس سے یہ مراد نہیں کہ وہی آگئے ہیں جو پہلے وفات پاچکے ہیں بلکہ یہ کہ ایک شخص نے ان کے کمالات حاصل کرنے کے باعث ان کے نام پالئے ہیں۔پس اگر کوئی شخص ہم پر یہ اعتراض کرے کہ ایک جسم میں اتنے آدمیوں کی ارواح کیونکر آگئیں تو یہ اس کی غلطی ہے کیونکہ ہم تو تناسخ کے قائل ہی نہیں پھر ہم کیونکر یہ عقیدہ رکھ سکتے ہیں کہ ایک شخص میں متعدد آدمیوں کی ارواح حلول کر گئی ہیں۔پس ہم پر ایسا اعتراض کرنے