انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 193

انوار خلافت — Page 138

۱۳۸ معاویہ آپ سے جدا ہوئے اور مکان سے نکلتے ہوئے یہ کہتے گئے کہ لوگو ہوشیار رہنا۔اگر اس بوڑھے ( یعنی حضرت عثمان ) کا خون ہوا تو تم لوگ بھی اپنی سزا سے نہیں بچو گے۔اس واقعہ پر ذرا غور کرو اور دیکھو اس انسان کے جس کی نسبت اس قدر بدیاں مشہور کی جاتی تھیں کیا خیالات تھے اور وہ مسلمانوں کا کتنا خیر خواہ تھا اور ان کی بہتری کے لئے کس قدر متفکر رہتا تھا اور کیوں نہ ہوتا۔آپ وہ تھے کہ جنہیں آنحضرت صلی الیہ امام نے یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیاں بیاہ دی تھیں اور جب دونوں فوت ہوگئیں تو فرمایا تھا کہ اگر میری کوئی تیسری بیٹی ہوتی تو اس کو بھی میں ان سے بیاہ دیتا۔افسوس لوگوں نے اسے خود آ کر نہ دیکھا اور اس کے خلاف شور کر کے دین و دنیا سے کھو گئے۔جب مفسدوں نے دیکھا کہ اب حضرت عثمان نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔اور اس طرح ہمارے منصوبوں کے خراب ہو جانے کا خطرہ ہے تو انہوں نے فوراً ادھر ادھر خطوط دوڑا کر اپنے ہم خیالوں کو جمع کیا کہ مدینہ چل کر حضرت عثمان سے روبرو بات کریں۔چنانچہ ایک جماعت جمع ہو کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئی۔حضرت عثمان کو ان کے ارادہ کی پہلے سے ہی اطلاع ہو چکی تھی۔آپ نے دو معتبر آدمیوں کو روانہ کیا کہ ان سے مل کر دریافت کریں کہ ان کا منشاء کیا ہے۔ان دونوں نے مدینہ سے باہر جا کر ان سے ملاقات کی اور ان کا عندیہ دریافت کیا۔انہوں نے اپنا منشاء ان کے آگے بیان کیا پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا مدینہ والوں میں سے بھی کوئی تمہارے ساتھ ہے تو انہوں نے کہا کہ صرف تین آدمی مدینہ والوں سے ہمارے ساتھ ہیں۔ان دونوں نے کہا کہ کیا صرف تین آدمی تمہارے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا ہاں صرف تین ہمارے ساتھ ہیں۔(اب بھی موجودہ فتنہ میں قادیان کے صرف تین چار آدمی ہی پیغام والوں کے ساتھ ملے ہیں یا دو تین ایسے آدمی جو مؤلفۃ القلوب میں داخل تھے اور جو بعد میں پیغام والوں سے بھی جدا ہو گئے ) انہوں نے دریافت کیا کہ پھر تم کیا کرو گے۔ان مفسدوں نے