انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 193

انوار خلافت — Page 137

۱۳۷ طرف پورے زور سے متوجہ رہنا۔یہ کہہ کر سب حکام کو واپس روانہ کر دیا۔حضرت معاویہؓ جب روانہ ہونے لگے تو عرض کیا۔اے امیر المؤمنین آپ میرے ساتھ شام کو چلے چلیں سب فتنوں سے محفوظ ہو جائیں گے۔آپ نے جواب دیا کہ معاویہ میں رسول اللہ لا یا یتیم کی ہمسائیگی کو کسی چیز کی خاطر بھی نہیں چھوڑ سکتا۔خواہ میرے چمڑے کی رسیاں ہی کیوں نہ بنادی جائیں۔اس پر حضرت معاویہؓ نے عرض کیا کہ آپ یہ بات نہیں مانتے تو میں ایک لشکر سپاہیوں کا بھیج دیتا ہوں جو آپ کی اور مدینہ کی حفاظت کریں گے آپ نے فرمایا کہ میں اپنی جان کی حفاظت کے لئے ایک لشکر رکھ کر مسلمانوں کے رزق میں کمی نہیں کرنا چاہتا۔حضرت معاویہؓ نے عرض کیا کہ امیر المؤمنین! خدا کی قسم آپ کو شریر لوگ دھوکا سے قتل کر دیں گے یا آپ کے خلاف جنگ کریں گے۔آپ ایسا ضرور کریں لیکن آپ نے یہی جواب دیا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا خدا میرے لئے کافی ہے۔پھر حضرت معاویہؓ نے عرض کیا کہ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو پھر یہ کریں کہ شرارتی لوگوں کو بڑا گھمنڈ بعض اکابر صحابہ پر ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ آپ کے بعد وہ کام سنبھال لیں گے اور ان کا نام لے لے کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔آپ ان سب کو مدینہ سے رخصت کر دیں اور دور دراز ملکوں میں پھیلا دیں۔شریروں کی کمریں ٹوٹ جائیں گی۔آپ نے فرمایا کہ جن کو رسول اللہ صلی سی ایم نے جمع کیا تھا میں تو انہیں جلا وطن نہیں کر سکتا۔اس پر حضرت معاویہ رو پڑے اور فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے اس فتنہ کے لئے منشائے الہی ہو چکا ہے۔اور اے امیر المؤمنین !شاید یہ میری آپ سے آخری ملاقات ہے۔اس لئے ایک عرض میں آخر میں اور کرتا ہوں کہ اگر آپ اور کچھ بھی نہیں کرتے تو اتنا کریں کہ اعلان کر دیں کہ میرے خون کا بدلہ معاویہ لے گا۔( یعنی بصورت آپ کے شہید ہونے کے) آپ نے فرمایا کہ معاویہ ! تمہاری طبیعت تیز ہے۔میں ڈرتا ہوں کہ تم مسلمانوں پر سختی کرو گے۔اس لئے یہ اعلان بھی نہیں کر سکتا۔اس پر روتے روتے حضرت