انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 193

انوار خلافت — Page 133

۱۳۳ آدمیوں کے سمجھانے سے فساد تو دب گیا۔مگر فساد کے بانی مبانی نے فوراً ایک آدمی کو خط دے کر حمص روانہ کیا کہ وہاں جو جلا وطن تھے انکو بلا لائے۔اور لکھا کہ جس حالت میں ہو فوراً چلے آؤ کہ مصری ہم سے مل گئے ہیں۔وہ خط جب ان کو ملا تو باقیوں نے تو اسے رد کر دیا لیکن مالک بن اشتر بگڑ کر فوراً کوفہ کی طرف روانہ ہو گیا۔اور تمام راستہ میں لوگوں کو حضرت عثمان اور سعید بن العاص کے خلاف اکساتا گیا اور ان کو سنا تا کہ میں مدینہ سے آرہا ہوں۔راستہ میں سعید بن العاص سے ملا تھا وہ تمہاری عورتوں کی عصمت دری کرنا چاہتا ہے اور فخر کرتا ہے کہ مجھے اس کام سے کون روک سکتا ہے۔اسی طرح حضرت عثمان کی عیب جوئی کرتا۔جو لوگ حضرت عثمان اور دیگر صحابہ کے واقف نہ تھے اور مدینہ آنا جانا ان کا کم تھاوہ دھوکے میں آتے جاتے تھے اور تمام ملک میں آگ بھڑ کتی جاتی تھی عقلمند اور واقف لوگ سمجھاتے لیکن جوش میں کون کسی کی سنتا ہے۔اس زمانہ میں بھی حضرت مسیح موعود کے خلاف لوگ قسم قسم کے جھوٹ مشہور کرتے تھے اور ایسے احمدی بھی جو قادیان کم آتے تھے ان کے دھوکے میں آجاتے تھے۔اب بھی ہمارے مخالف میری نسبت اور قادیان کے دوسرے دوستوں کی نسبت جھوٹی باتیں مشہور کرتے ہیں کہ سب اموال پر انہوں نے تصرف کر لیا ہے اور حضرت صاحب کو حقیقی نبی ( جس کے معنی حضرت مسیح موعود نے تشریعی نبی کئے ہیں ) مانتے ہیں اور نعوذ باللہ من ذالک رسول کریم صلام کی تک کرتے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ جو لوگ قادیان نہیں آتے ان میں سے بعض ان کے فریب میں آجاتے ہیں۔ایک رئیس نے مسجد کوفہ میں لوگوں کو اکٹھا کر کے ایک تقریر کی اور سمجھا یا لیکن دوسرے لوگوں نے انہیں کہا کہ اب فتنہ حد سے بڑھ گیا ہے۔اب اس کا علاج سوائے تلوار کے کچھ نہیں۔اس ناشکری کی سزا اب ان کو یہی ملے گی کہ یہ زمانہ بدل جائے گا اور بعد میں یہ لوگ خلافت کے لوٹنے کی تمنا کریں گے لیکن ان کی آرزو پوری نہ ہوگی۔پھر سعید بن العاص ان کو سمجھانے گئے انہوں نے جواب دیا کہ ہم تجھ سے راضی نہیں۔تیری جگہ پر اور گورنر طلب