انوار خلافت — Page 132
۱۳۲ جائیں۔اس کے لئے عبداللہ بن سبا نے یہ تجویز کی کہ عام طور پر وعظ ولیکچر دیتے پھرو تا کہ لوگ تمہاری طرف مائل ہوجائیں اور بڑا خادم اسلام سمجھیں۔چنانچہ اس کے اصل الفاظ یہ ہیں جو طبری نے لکھے ہیں وَ أَظْهِرُوا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهَى عَنِ الْمُنْكَرِ تَسْتَمِيلُوا النَّاسَ وَادْعُوهُمْ إِلى هَذَا الْأَمْرِ فَبَثَّ دُعَاتَهُ ( تاریخ طبری جلد ۶ صفحه ۲۹۴۲ مطبوعه مکتبه خیاط بیروت ) یعنی اس نے نصیحت کی کہ ظاہر میں تو تمہارا کام لوگوں کو نیک باتوں کا وعظ کرنا اور بری باتوں سے روکنا ہوتا کہ اس ذریعہ سے لوگوں کے دل تمہاری طرف مائل ہو جائیں کہ کیا عمدہ کام کرتے ہیں لیکن اصل میں تمہاری غرض ان وعظوں سے یہ ہو کہ اس طرح لوگوں کے دل جب مائل ہو جائیں تو انہیں اپنا ہم خیال بناؤ۔یہ نصیحت کر کے اس نے اپنے واعظ چاروں طرف پھیلا دیئے۔غرض ان لوگوں نے ایسا طریق اختیار کیا کہ سادہ لوح لوگوں کے لئے بات کا سمجھنا بالکل مشکل ہو گیا۔اور فتنہ بڑے زور سے ترقی کرنے لگا۔اور عام طور پر مسلمان خلافت عثمان سے بدظن ہو گئے اور ہر جگہ یہی ذکر لوگوں کی زبانوں پر رہنے لگا کہ ہم تو بڑے مزے میں ہیں۔باقی علاقوں کے لوگ بڑے بڑے دکھوں میں ہیں۔بصرہ کے لوگ خیال کرتے کہ کوفہ اور مصر کے لوگ سخت تکلیف میں ہیں اور کوفہ کے لوگ سمجھتے کہ بصرہ اور مصر کے لوگ سخت دکھ میں ہیں حالانکہ اگر وہ لوگ آپس میں ملتے تو ان کو معلوم ہوجا تا کہ یہ شریروں کی شرارت ہے ورنہ ہر جگہ امن و امان ہے۔ہر جماعت دوسری جماعت کو مظلوم قرار دیتی تھی حالانکہ مظلوم کوئی بھی نہ تھا۔اور ان سازشیوں نے ایسا انتظام کر رکھا تھا کہ اپنے ہم خیالوں کو ایک دوسرے سے ملنے نہ دیتے تھے تا راز ظاہر نہ ہو جائے۔آخر یہ فساد بڑھتے بڑھتے خیالات سے عمل کی طرف لوٹا۔اور لوگوں نے یہ تجویز کی کہ ان گورنروں کو موقوف کروایا جائے۔جن کو حضرت عثمان نے مقرر کیا ہے چنانچہ سب سے پہلے حضرت عثمان کے خلاف کوفہ کے لوگوں کو اکسایا گیا اور وہاں فساد ہو گیا۔لیکن بعض بڑے