انوار خلافت — Page 78
۷۸ جو قرآن شریف پڑھنے والوں کو پیش آتی ہیں کچھ تدابیر کی ہیں۔جو امید ہے انشاء اللہ مفید ثابت ہونگی۔پہلی یہ تدبیر کی ہے کہ قرآن شریف کے پہلے پارہ کا اردو میں ترجمہ کروا کے چھپنے کے لئے بھیج دیا ہے جو انشاء اللہ کل تک تیار ہو کر آجائے گا ( آ گیا تھا ) اس ترجمہ کے ذریعہ انشاء اللہ قرآن کریم کے تیسویں حصہ کے سمجھنے کے قابل تو انشاء اللہ ہماری جماعت کے لوگ ہو جائیں گے۔دوسری تدبیر میں نے یہ کی ہے کہ قرآن شریف کے متعلق ایسے سبق تیار کرائے ہیں کہ جن کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی۔وہ بھی کل پرسوں تک تیار ہو جائیں گے اور جو پرسوں تک ٹھہریں گے وہ لے سکیں گے اور جو نہیں ٹھہریں گے وہ منگوا سکتے ہیں۔جو لوگ ان اسباق کو پڑھنا چاہیں وہ اپنے نام اور پتے دفتر ترقی اسلام میں لکھا دیں۔ان اسباق میں یہ انتظام کیا گیا ہے کہ ہر لفظ کے معنی علیحدہ علیحدہ لکھ دیئے ہیں۔مثلاً بسم اللہ لکھ کر اس کی یوں تشریح کر دی ہے کہ ب کے معنی ساتھ۔اسم کے معنی نام اور اللہ ایک ایسی ذات کا نام ہے جو تمام نقصوں سے پاک اور تمام خوبیوں کی جامع ہے۔اسم ذات ہے۔امید ہے کہ اگر کوئی ان اسباق کو چار پانچ پارے تک پڑھ لے گا۔تو سارا قرآن پڑھ سکے گا۔ان اسباق کو نمونے کے طور پر پہلے میں نے خود لکھا اور پھر شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کو دیا۔انہوں نے فی الحال سورۃ فاتحہ کے سبق لکھے ہیں۔ان اسباق کے ساتھ یہ بھی تجویز کی ہے کہ پڑھنے والوں کے ہوشیار کرنے کے لئے ان کے ساتھ سوالات بھی لکھے گئے ہیں جن کا جواب لکھ کر بھیجنا ہر ایک طالب علم کا فرض ہوگا۔مثلاً بسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ کا سبق ختم ہونے کے بعد ایسے سوال دے دیئے گئے ہیں کہ رحمن کے کیا معنی ہیں ان کے کیا معنی ہیں۔اور ان سوالوں کے جواب دینے کے لئے یہ شرط ہے کہ سبق دیکھنے کے بغیر ان کا جواب دیا جائے۔جواب کے پرچے تمام طالب علموں کو یہاں بھیجنے ہوں گے اور یہاں ایک استاد ان کو درست کر دے گا۔اور انہیں لکھ دے گا کہ تم نے فلاں فلاں غلطی کی ہے جو درست کر دی