انوار خلافت — Page 76
۷۶ ضروری ہے۔ممکن ہے کہ تم میں سے بہت سے لوگ یہ کہہ دیں کہ ہمیں دین کی واقفیت ہے۔غیر احمدی ہمیں مولوی کہتے ہیں اور ہم سے مسائل پوچھتے ہیں اور عالم سمجھتے ہیں۔لیکن میں کہتا ہوں ان کے سمجھنے سے کیا ہوتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی نظروں میں تم عالم نہیں ہو۔کوئی تمہیں ہزار عالم کہے اگر خدا کی نظر میں تم اس کے دین کے عالم نہیں ہوتو کچھ نہیں ہو۔خوب یا درکھو کہ جب تک تم خدا تعالیٰ کے لئے علم نہ سیکھو اور اس کی نظر میں عالم نہ ٹھہر واس وقت تک ان انعامات کے مستحق نہیں ہو سکتے جو اپنے علوم حاصل کرنے والوں کو خدا تعالیٰ دیا کرتا ہے۔صحابہ پڑھے ہوئے لوگ نہ تھے بلکہ بعض تو ان میں سے اپنا نام بھی نہیں لکھ سکتے تھے۔لیکن دین کی ان میں ایسی محبت تھی کہ رسول کریم سی سی پہ ستم سے باتیں سن کر نہایت احتیاط سے یاد کر لیتے تھے اور جو خود نہ سنتے وہ دوسروں سے پوچھ کر حفظ کر لیتے۔اس بات کی کوئی پرواہ نہ کرتے کہ اپنے سے چھوٹا بات بتا رہا ہے یا بڑا۔اگر کسی چھوٹے کی نسبت بھی سنتے کہ اس کو فلاں بات یاد ہے تو اس تک پہنچتے اور اس سے سن کر یاد کر لیتے۔وہ جب تک رسول کریم کی بات سن نہ لیتے انہیں چین نہ آتا تھا۔لیکن ان کے لئے جو مشکلات تھیں وہ ہمارے لئے نہیں ہیں۔خدا تعالیٰ کی ہزار ہزار رحمتیں ہوں محدثوں پر کہ انہوں نے ہمارے لئے بہت سی مشکلوں کو آسان کر دیا ہے۔حدیثیں چھپی ہوئی موجود ہیں جن کو ہر ایک شخص خرید سکتا ہے۔قرآن شریف کا تو خدا تعالیٰ حافظ تھا اسے کون مٹا سکتا تھا وہ موجود ہے اور اب تو چھپنے کی وجہ سے اس کا خریدنا نہایت آسان ہو گیا ہے آٹھ آٹھ آنہ کومل سکتا ہے۔کیا اب بھی یہ مہنگا ہے یا اس کے خریدنے میں کوئی مشکل در پیش ہے ہر گز نہیں۔پس آپ لوگوں کو میں نصیحت کرتا ہوں اور میرا فرض ہے کہ تمہیں نصیحت کروں کیونکہ میں اگر نہ کروں تو گنہ گار ہوں گا کہ آپ لوگ قرآن شریف پڑھیں۔حدیث کی کتابوں کو پڑھیں۔حدیثوں کے ترجمے ہو گئے ہیں۔وہ لوگ جو عربی نہیں پڑھ سکتے وہ ترجمہ دیکھ کر پڑھ لیا کریں۔پھر حضرت مسیح موعود کی اردو کتابیں ہیں ان کو پڑھیں۔آج ہم میں جو یہ اتنا بڑا جھگڑا پیدا ہو گیا ہے تو اس کی یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں نے حضرت صاحب کی