انوار خلافت — Page 75
۷۵ اپنے پاس سے کیوں کر رہا ہے۔یہ ہے غیر احمدیوں کی حالت۔یہی ہیں وہ لوگ جن کی نسبت قرآن شریف میں آیا ہے۔وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان : ۳۱)۔کہ رسول کریم صلا تم خدا تعالیٰ سے کہیں گے کہ اے میرے رب ! اس میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ دیا۔ان کے عزیزوں کے خط آتے تو بڑے شوق اور محبت سے پڑھاتے تھے۔لیکن قرآن جس میں تجھ تک پہنچنے کی راہیں تھیں اور تجھ سے تعلق پیدا کرنے کے طریق تھے اس کو انہوں نے نہ پڑھا باوجودیکہ پڑھانے والے ان کو پڑھاتے تھے مگر انہوں نے کوئی توجہ نہ کی اور نہ پڑھا۔پس وہ لوگ جنہوں نے ابھی تک قرآن شریف نہیں پڑھا اور اگر پڑھا ہے تو با معنی نہیں پڑھا وہ ہوشیار ہو جائیں اور پڑھنے کی فکر میں لگ جائیں کیونکہ بے علمی کی مرض بہت بری ہے۔ایک بے علم شخص نماز پڑھتا ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں۔اسی طرح ایک جاہل انسان روزہ رکھتا ہے۔اور سارا دن بھوکا رہتا ہے لیکن بے علمی کی وجہ سے بعض ایسی باتیں کر بیٹھتا ہے کہ جن سے روزہ کا پورا پورا ثواب اسے حاصل نہیں ہوتا۔اسی طرح ایک شخص زکوۃ دیتا ہے۔مگر کئی ایسی باتیں ترک کر دیتا ہے جن کی وجہ سے وہ پورے ثواب سے محروم ہو جاتا ہے۔ایسے آدمیوں کو اپنے اپنے اخلاص کا ثواب تو ملے گا۔لیکن کیا ان کو ایسا ہی ثواب مل سکتا ہے جیسا ایک ایسے شخص کو ملے گا جو اپنے علم کی بناء پر اپنی عبادت کو تمام شرائط کے ساتھ بجالاتا ہے ہرگز نہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ ہر ایک انسان علم حاصل کرنے کی کوشش کرے تاکہ پورے ثواب کا مستحق ہو سکے۔اور جب تک علم نہ ہو یہ بات حاصل نہیں ہو سکتی۔میں نے دیکھا ہے ہماری جماعت کے بعض لوگ جو بڑے بڑے علماء بنتے ہیں اور پاک ممبر کہلاتے ہیں ان میں سے ایک شخص ایسی حالت میں جرابوں پر مسح کر کے نماز پڑھتا تھا جبکہ اس کی جراب ایسی پھٹی ہوئی تھی کہ اس کی ایڑیاں بالکل سنگی ہوگئی تھیں اور وہ غریب بھی نہ تھا بلکہ اس وقت ایک معقول تنخواہ پر ملازم تھا۔اس کی کیا وجہ تھی یہی کہ وہ نہیں جانتا تھا کہ جرابوں پر مسح کرنے کی کیا شرائط ہیں۔تو دین کے متعلق علم حاصل کرنا نہایت