انوار خلافت — Page 48
۴۸ سے اسلام پھیلایا۔خدا تعالیٰ نے اس اعتراض کو رد کرنے کے لئے آپ کے ایک غلام کو کھڑا کر کے دکھلا دیا کہ جب یہ دلائل اور براہین سے اسلام کو دیگر مذاہب پر غالب کر سکتا ہے تو اس کے آقا نے کیوں اسی طرح نہ کیا ہو گا۔پس یہ بات بھی حل ہو گئی کہ آنحضرت سلائی یتیم نے جو تلوار اٹھائی تھی وہ اس لئے اُٹھائی تھی کہ آپ کے مقابلہ میں تلوار اٹھائی گئی ورنہ آپ بھی کبھی تلوار نہ اٹھاتے۔غرض یہ آیت بھی ظاہر کرتی ہے کہ اس رسول کے آنے کا ایسا زمانہ ہوگا جب کل مذاہب ظاہر ہو جائیں گے اور ایسے سامان پیدا ہو جائیں گے جن کے ذریعہ سے اسلام کو کل ادیان پر غالب کیا جا سکے گا اور وہ یہی زمانہ ہے اور اس لئے مسیح موعود ہی احمد ہو سکتے ہیں۔اس آیت سے ایک اور طرح بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ مسیح موعود کا ذکر ہے۔اور وہ یہ کہ یہ آیت قرآن کریم میں تین جگہ آئی ہے اور تینوں جگہ مسیح کا ساتھ ذکر ہے۔دو جگہ تو صاف مسیح کا نام موجود ہے اور تیسری جگہ ساتھ انجیل کا ذکر ہے۔پس تین جگہ اس آیت کا قرآن کریم میں آنا۔اور تینوں جگہ ساتھ مسیح کا ذکر ہونا دلالت کرتا ہے کہ مسیح کے ساتھ اس آیت کا کوئی خاص تعلق ہے اور وہ یہی ہو سکتا ہے کہ اس آیت کا مضمون مسیح کی بعثت ثانیہ کے وقت پورا ہونا تھا۔اور اگر اس آیت کا مسیح کے ساتھ کوئی خاص تعلق نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ تین متفرق جگہ پر مسیح کے ذکر کے ساتھ اس آیت کو دہرایا گیا ہے ایک دفعہ سورۃ تو بہ رکوع ۵ میں۔دوسری دفعہ سورۃ فتح رکوع ۴ میں۔اور تیسری دفعہ اسی سورۃ صف میں۔ساتویں دلیل هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (الصف:۱۱) وہ آنے والا رسول لوگوں کو کہے گا کہ اے لوگو! تم جو دنیا کی تجارت کی طرف جھکے ہوئے ہو کیا میں تمہیں وہ تجارت بتاؤں جس کی وجہ سے تم عذاب الیم سے بیچ جاؤ۔یہ آیت بتاتی ہے