انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 193

انوار خلافت — Page 28

۲۸ کہ وہ ہماری مخالفت میں رسول کریم مالی اسلم پر بھی حملہ کرنے لگ گئے ہیں۔حضرت مسیح موعود بھی فرماتے ہیں کہ منم محمد واحمد کہ مجتبی باشد۔کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بھی یہ سب نام تھے۔احمد نام گو اختلافی ہے لیکن محمد تو آپ کا نام ہرگز نہ تھا۔پھر کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھ میں صفت محمدیت ہے اور یہی بات قابل فخر ہو بھی سکتی ہے۔صرف نام محمد آپ کے لئے باعث فخر کیونکر ہوسکتا تھا اور حضرت مسیح موعود کا نام محمد تو تھا بھی نہیں کہ یہاں وہ دھوکا لگ سکے۔ہمارے مخالف یہ روایت بھی پیش کیا کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی سیا ستم کی والدہ محترمہ کو آپ کا نام احمد بتایا گیا تھا۔لیکن یہ حدیث جھوٹی ہے کیونکہ اس کا راوی وہ شخص ہے جس نے کئی ہزار جھوٹی حدیثیں بنائی ہیں۔اور جس نے خود اس بات کا اقرار کیا ہے کہ میں نے جھوٹی حدیثیں بنائی ہیں۔پھر جبکہ صحیح روایات میں یہ آتا ہے کہ آپ کی والدہ کو آپ کا نام محمد بتا یا گیا تھا۔چنانچہ ابن ہشام کے صفحہ ۶۲ پر لکھا ہے کہ آپ کی والدہ فرماتی ہیں مجھے خواب میں بتایا گیا کہ جب یہ بچہ پیدا ہوگا تو سَمِيْهِ مُحَمَّدًا۔(ابن ہشام جلد اصفحه ۶۲ ناشر دارریحافی بیروت) اس کا نام محمد رکھنا۔اسی طرح دیکھو مواہب اللہ نیہ۔پھر ایک ایسے جھوٹے کی حدیث پر ہم کیونکر اعتبار کر سکتے ہیں۔یہ حدیث ایسے ہی لوگوں میں سے کسی نے بنالی ہے جنہوں نے اپنی عقل سے بلا سند قرآن مجید اور قول نبی کریم کے پہلے اسمه احمد کو آنحضرت الی تم پر چسپاں کیا اور پھر ان کو مشکل پیش آئی کہ اس کی سند کیا ہے۔پس انہوں نے ایک روایت گھڑی ورنہ کیا وجہ ہے کہ ایسی بڑی بات کا ذکر صحیح احادیث میں نہیں۔کیوں اس حدیث کے راوی واقدی اور اسی قماش کے اور لوگ ہیں جو محدثین کے نزدیک جھوٹے یا منکر الاحادیث ہیں؟ غرض کسی طرح بھی یہ بات ثابت نہیں کہ آنحضرت صلی یا پیام کا نام احمد تھا۔پس اب دو ہی صورتیں باقی رہ جاتی ہیں یا تو یہ تسلیم کیا جائے کہ یہ پیشگوئی احمد نام کے کسی اور شخص کی نسبت