انوار خلافت — Page 27
۲۷ حدیث میں سب صفات ہی بیان ہوئی ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس حدیث میں رسول کریم سالی یا اسلام نے تحدیث نعمت کے طور پر فرمایا کہ میرے یہ یہ نام ہیں۔اب ظاہر ہے کہ نام ہونا تو کوئی تعریف نہیں ہوتی۔کیا رسول کریم صلی یا پی ایم جیسا انسان صرف نام پر فخر کرے گا نعوذ باللہ من ذالک۔بات یہی ہے کہ آپ نے اس جگہ اپنی صفات ہی بیان فرمائی ہیں۔اور خدا تعالیٰ کا احسان بتایا ہے کہ اس نے مجھےمحمد بنایا ہے احمد بنایا ہے اور دیگر صفات حسنہ سے متصف کیا ہے اور محمد بھی اس جگہ بطور صفت کے استعمال ہوا ہے نہ بطور نام کے اور اس میں آپ نے بتایا ہے کہ میرا صرف نام ہی محمد ” نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے کاموں اور اخلاق کے لحاظ سے بھی میں محمد ہوں جس کی خدا نے تعریف کی ہے۔فرشتوں نے پاکی بیان کی ہے۔میں وہ ہوں جو سب سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کی تعریف کرنے والا ہوں۔میں وہ ہوں جو دنیا سے کفر اور ضلالت کو مٹانے والا ہوں۔میں وہ ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جائیں گے اور میں وہ ہوں جو سب سے آخری شریعت لانے والا نبی ہوں۔اگر اس حدیث میں صرف اتنا ہی آتا کہ میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں تو کوئی کہہ سکتا تھا کہ یہ آپ کے نام ہیں صفات نہیں ہیں۔لیکن جب انہی کے ساتھ ماحی، حاشر اور عاقب بھی آ گیا۔تو معلوم ہوا کہ یہ سب آپ کی صفات ہیں نام نہیں۔اس لئے غیر مبائعین کا یہ استدلال بھی غلط ہو گیا کہ آنحضرت سیلی سیلین کا احمد نام اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ورنہ اگر صرف محمد نام پر نعوذ باللہ آپ نے فخر کیا تھا تو اس نام کے تو اور بہت سے انسان دنیا میں موجود ہیں۔کیا وہ سب اپنے ناموں پر فخر کر سکتے ہیں اور کیا ان کا یہ فخر بجا ہو گا۔اگر نہیں تو کیوں اس حدیث کے ایسے معنی کئے جاتے ہیں جن میں رسول کریم صلی یا پیلم کی ہتک ہوتی ہے اور نعوذ باللہ آپ پر الزام آتا ہے کہ آپ اپنے ناموں پر فخر کیا کرتے تھے یہ حرکت تو ایک معمولی انسان بھی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ خدا کا نبی اور پھر تمام نبیوں کا سردار ایسی بات کرے۔ہمارے مخالف ذرا اتنا تو سوچیں