انوار خلافت — Page 26
۲۶ نہیں کی اور دوسرے تینوں ناموں کی تشریح کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے دونوں آپ کے نام ہیں اور دوسری تین آپ کی صفات ہیں کیونکہ تبھی ان کے معنی کر دیئے۔لیکن یہ استدلال بھی درست نہیں کیونکہ اول تو یہ دلیل ہی غلط ہے کہ جس کی تشریح نہ کی جائے وہ ضرور نام ہوتا ہے۔بلکہ تشریح صرف اس کی کی جاتی ہے جس کی نسبت خیال ہو کہ لوگ اس کا مطلب نہیں سمجھیں گے۔دوسرے ایک اور روایت اس دلیل کو بھی رڈ کر دیتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ابو موسیٰ اشعری روایت کرتے ہیں کہ سلمی لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ أَسْمَاء مِنْهَا مَا حَفِظْنَا فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ وَ أَحْمَدُ وَالْمُقَقَى وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ الرَّحمَةِ - - - وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الْمَلْحَمَةِ۔(مند احمد بن حنبل جلد ۴ صفحه ۳۹۵) یعنی رسول کریم صلی تم نے ہمارے سامنے اپنے کئی نام بتائے جن میں سے بعض ہم کو بھول گئے اور بعض یاد رہ گئے۔آپ نے فرمایا کہ میرا نام محمد ہے میرا نام احمد ہے میرا نام منفی ہے حاشر ہے نبی الرحمہ نبی التوبہ اور نبی الملحمہ ہے۔اس حدیث میں مقفی اور نبی الرحمہ اور نبی التوبہ اور نبی الملحمہ کی تشریح نہیں کی لیکن یہ سب صفات ہیں۔آج تک کسی نے بھی ان کو نام تسلیم نہیں کیا اور نہ یہ نام ہو سکتے ہیں۔کیونکہ آپ کے نام تو آپ کے بزرگوں نے رکھنے تھے اور عرب لوگ نبوت کے قائل ہی نہ تھے وہ آپ کا نام نبی الرحمۃ کیونکر رکھ سکتے تھے غرض یہ حدیث آپ ہی پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اس میں رسول کریم کے نام نہیں بلکہ آپ کی صفات بیان کی گئی ہیں۔شاید اس جگہ کوئی شخص یہ بھی سوال کر بیٹھے کہ اوپر کے بیان سے تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی شما اسلام کا نام محمد بھی نہ تھا کیونکہ محمد بھی اس حدیث میں دوسری صفات کے ساتھ آیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حدیث میں محمد بطور صفت ہی بیان ہوا ہے بطور نام نہیں۔ہاں قرآن کریم اور دوسری احادیث سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کا نام محمد تھا اس