انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 193

انوار خلافت — Page 187

۱۸۷ کہ یہی دوبارہ آئیں گے۔لیکن اگر انہیں یہ کہا جاتا کہ ان کے مثیل آئیں گے تو انہیں ایسا شوق اور محبت ان سے ملنے کے لئے نہ ہوتی۔اب مسیحیوں نے بڑے شوق سے انتظار کیا کیونکہ انہیں حضرت مسیح سے محبت تھی۔ہندوؤں نے بڑی بے تابی سے انتظار کیا کیونکہ انہیں حضرت کرشن سے محبت تھی۔بدھوں نے بڑے جوش سے انتظار کیا کیونکہ انہیں بدھ سے محبت تھی۔مسلمانوں نے بڑی خوشی سے انتظار کیا کیونکہ انہیں آنحضرت سیل یا پیام سے محبت تھی۔یہ خدا تعالیٰ نے ایک تدبیر فرمائی تھی کہ تمام لوگ آنے والے کی انتظار میں محبت اور شوق رکھیں لیکن جب وہ آ گیا تو پتہ لگا کہ وہ مثیل تھا۔چٹھی حکمہ یہ ہے کہ اگر ہر ایک مذہب کی کتابوں میں حضرت مسیح موعود کا نام لکھ دیا جاتا کہ یہ نبی آئے گا اس کو قبول کر لینا تو ہر ایک مذہب والے کسی دوسرے نبی کی پیشگوئی دیکھ کر اس میں تحریف کر دیتے۔یا اس کا نام ہی کاٹ دیتے جیسا کہ ایسا ایک واقعہ موجود ہے کہ استثناء باب ۱۸ میں آنحضرت سیلی لا یتیم کے متعلق پیشگوئی تھی لیکن یہود نے اس میں تحریف کر دی۔بات یہ تھی کہ خدا تعالیٰ کے سچے الہاموں کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ بڑی شان کے ساتھ نازل ہوتے ہیں۔ورنہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہر ایک شخص یہ کہہ دیتا کہ میں خدا سے بات پوچھ لوں۔وہ اپنے اوپر چادر ڈال لیتا اور تھوڑی دیر کے بعد کہہ دیتا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بتادیا ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ہم نے مسیح موعود گود دیکھا ہے کہ آپ کو جب الہام ہوتا تو آپ پر مردنی کی سی حالت ہو جاتی اور اس طرح آپ کے حلق سے آواز آتی کہ گویا کوئی سخت تکلیف میں ہے۔تو خدا تعالیٰ کا کلام خاص شان کے ساتھ نازل ہوتا ہے۔یہود جو ابھی پختہ ایمان والے نہ تھے انہوں نے جب الہام کا نازل ہونا دیکھا جس کو خروج