انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 193

انوار خلافت — Page 183

۱۸۳ وہی لفظ بول دینے سے ہوتا ہے۔چنانچہ کسی کو مثیل شیر کہنے سے جو اس کی حیثیت پیدا ہوتی ہے شیر کہنے سے اس سے بہت بڑھ کر ظاہر ہوتی ہے۔تو مسیح موعود کو جو اصل نام دیئے گئے ہیں اور کرشن ، بدھ مسیح ، محمد کہا گیا ہے اور ان کا مثیل کر کے نہیں پکارا گیا تو اسی لئے کہ تا اس سے آپ کے درجہ کی عظمت ظاہر ہو۔تیسری حکمت یہ ہے کہ اگر حضرت کرشن کے منہ سے یہ نہ کہلوایا جاتا کہ کرشن آئے گا بلکہ مثیل کرشن آئے گا۔اور حضرت بدھ کے منہ سے یہ نہ کہلوایا جاتا کہ بدھ آئے گا بلکہ مثیل بدھ آئے گا۔اور حضرت مسیح کے منہ سے یہ نہ کہلوایا جاتا کہ مسیح آئے گا بلکہ مثیل مسیح آئے گا۔اور آنحضرت مصلا لا اسلام سے یہ نہ کہلوایا جاتا کہ محمد آئے گا بلکہ مثیل محمد آئے گا۔تو ان انبیاء کی تمام صفات کو تفصیل وار لکھنے کے لئے دفتر کے دفتر چاہئیں تھے۔مثلاً خدا تعالیٰ نے انجیل میں فرمایا ہے کہ مسیح حلیم تھا اور مثالوں میں باتیں کیا کرتا تھا۔تو بتایا جاتا کہ وہ جو مثیل مسیح ہو گا وہ بھی حلیم ہو گا اور مثالوں میں باتیں کرے گا۔اسی طرح ہر ایک نبی کی ہر ایک صفت کو بیان کر کے بتایا جاتا کہ یہ یہ اوصاف اس میں بھی ہوں گے اور اگر ہر ایک صفت کو بیان کر کے اس کو حضرت مسیح موعود کے متعلق بھی قرار نہ دے دیا جاتا تو یہ سمجھ لیا جاتا کہ باقی صفتیں ان میں نہیں ہیں کیونکہ ان کے متعلق مذکور نہیں ہوئیں۔لیکن یہ ایک بہت طول طویل کام تھا مگر جب خدا تعالیٰ نے ہر ایک نبی کا نام لے دیا اور بتادیا کہ یہی دوبارہ آئے گا تو اس سے پتہ لگ گیا کہ اس میں جس قدر بھی صفات ہیں وہ سب کی سب بغیر کسی استثناء کے آنے والے میں ہوں گی۔اسی طرح اگر قرآن شریف میں آنحضرت مالی ایم کی تمام صفات کو بالتفصیل بیان فرما کر ان کو مسیح موعود کے لئے بھی بیان کیا جاتا تب یہ بات حاصل ہوسکتی تھی۔لیکن نام لے