انوار خلافت — Page 181
۱۸۱ ہو جاتے۔اور جب ان انبیاء کی پیشگوئی پوری ہوتی تو کسی کو دھوکا بھی نہ لگتا۔یہ کیوں کہا گیا کہ کرشن ہی آئے گا؟ یہ کیوں نہ کہہ دیا گیا کہ حضرت کرشن یہ پیشگوئی کرتے کہ ایک انسان آئے گا جس کی یہ یہ علامتیں ہوں گی۔اسی طرح حضرت مسیح “، حضرت بدھ اور آنحضرت صلی شمالی کنم سے یہ کیوں کہلایا گیا کہ مسیح اور بدھ اور محمد ہی آئیں گے۔یہ کیوں نہ کہلا دیا کہ ایک شخص آئے گا جس کی فلاں فلاں علامتیں ہوں گی۔اور اگر ایسا نہ کیا گیا تھا تو یہ تو کیا جاتا کہ ان سے یہ کہلا دیا ہوتا کہ ایک مثیل بدھ آئے گا۔مثیل کرشن آئے گا۔مثیل مسیح آئے گا۔اور مثیل محمد آئے گا۔اس کی کیا وجہ ہے کہ ان انبیاء کے اصل نام لے کر کہا گیا کہ یہی دوبارہ آئیں گے۔ان کے اصل نام رکھ کر دھوکے میں ڈالنے کی کیا وجہ ہے؟ پہلی حکم اس کی ایک بڑی حکمت تو اب کھلی ہے جبکہ ہماری جماعت میں اختلاف پیدا ہوا ہے۔اگر مثیل کہا جاتا تو آج اس طرح یہ حقیقت نہ کھلتی۔کیونکہ مثیل کہنے سے یہ بات نہیں کھلتی کہ وہ جس کا مثیل ہے اس کے برابر ہے یا کم۔کیونکہ صرف ایک صفت کے اشتراک سے مثیل بن سکتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ ایک شخص دوسرے کا مثیل ہو لیکن اس کے تمام کمالات کا جامع نہ ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے بھی بڑھ کر کمالات رکھنے والا ہو۔پس خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے نام بدھ ، کرشن، مسیح اور محمد اور سب نبیوں کے جو نام رکھے۔یعنی فرما یا جرمی الله في حُلّلِ الْأَنْبِيَاء ( تذکرہ صفحہ ۷۹) تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ان انبیاء کا مسیح موعود کو مثیل کہا جاتا۔تو کہنے والے کہہ دیتے کہ آپ نبی نہیں ہیں کیونکہ مثیل کے لئے ضروری نہیں کہ ہر ایک بات میں مماثلت رکھے۔پس ان ناموں کے رکھنے سے بھی حضرت مسیح موعود کی نبوت کا ثبوت ملتا ہے۔خدا تعالیٰ نے آپ کو کرشن کہا ہے اور کرشن ایک نبی کا نام ہے۔اس لئے آپ بھی نبی ہیں۔خدا تعالیٰ نے آپ کو مسیح کہا ہے او سیخ ایک نبی کا نام ہے اس