انوار خلافت — Page 18
۱۸ خدا تعالیٰ کی رحمتیں بھیجی جاتی ہیں۔رسول کریم صلی یا اسلام کے خطوط کی نقلیں موجود ہیں ان سب میں آپ نے اپنے دستخط کی جگہ محمد نام کی ہی مہر لگائی ہے۔ایک خط میں بھی احمد اپنا نام تحریر نہیں فرمایا۔پھر صحابہ کرام کی گفتگو احادیث میں مذکور ہیں لیکن ایک دفعہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ کسی صحابی نے آنحضرت صلی اینم و احمد کہ کر پکارا ہو اور نہ ان کی آپس کی گفتگو میں ہی یہ نام آتا ہے نہ تاریخ سے ثابت ہے کہ آپ کا نام احمد رکھا گیا تھا۔بلکہ تاریخ سے بھی یہی ثابت ہے کہ آپ کا نام محمد رکھا گیا تھا۔آپ کے مخالف جس قدر تھے جن میں خود آپ کے رشتہ دار اور چچا بھی شامل تھے سب آپ کو محمد صلی شما پیام نام سے پکارتے تھے یا شرارت سے مذقم کہہ کر پکارتے تھے کہ وہ بھی محمدؐ کے وزن پر ہے۔غرض جس قدر بھی غور کریں اور فکر کریں آپ کا نام قرآن کریم سے ، احادیث سے کلمہ سے اذان سے تکبیر سے ، درود سے، آپ کے خطوط سے، معاہدات سے ، تاریخ سے صحابہ کے اقوال سے محمد ہی معلوم ہوتا ہے نہ کہ احمد۔پھر اس قدر دلائل کے ہوتے ہوئے کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا نام احمد تھا۔اگر احمد بھی آپ کا نام ہوتا تو مذکورہ بالا مقامات میں محمد نام کے ساتھ آپ کا نام احمد بھی آتا اور کچھ نہیں تو ایک ہی جگہ احمد نام سے آپ کو پکارا جاتا یا کلمہ شہادت میں بجائے اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ الله کے احمد رسول اللہ بھی پڑھنا جائز ہوتا مگر ایسا نہیں ہے نہ یہ بات رسول کریم سے ثابت ہے اور نہ صحابہ سے۔اب ان واقعات کے ہوتے ہوئے ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ آپ کا نام احمد نہ تھا۔پس اس آیت میں جس رسول احمد نام والے کی خبر دی گئی ہے وہ آنحضرت ملا لیا ایلیم نہیں ہو سکتے ہاں اگر وہ تمام نشانات جو اس احمد نام رسول کے ہیں آپ کے وقت میں پورے ہوں تب بیشک ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت میں احمد نام سے مراد احمدیت کی صفت کا رسول ہے کیونکہ سب نشانات جب آپ میں پورے ہو گئے تو پھر کسی اور پر اس کے چسپاں کرنے کی کیا وجہ ہے لیکن یہ بات بھی نہیں جیسا کہ میں آگے چل کر ثابت کروں گا۔