انوار خلافت — Page 17
۱۷ قوم میں آئے اور ان کی قوم نے انہیں دیکھ دیئے تو انہوں نے کہا کہ میں خدا کی طرف سے تمہارے پاس رسول ہو کر آیا ہوں مجھے قبول کر لو لیکن جب انہوں نے قبول نہ کیا اور کبھی اختیار کی تو خدا تعالیٰ نے بھی ان کے دلوں کو سچ کر دیا۔اس ذکر کے بعد خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کے تمام انبیاء کا ذکر چھوڑ دیا ہے اور صرف حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔اس کی غرض سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تیرہ سو سال بعد حضرت مسیح آئے تھے اسی طرح آنحضرت سالی ایم کے تیرہ سو سال بعد جو مثیل موسیٰ ہیں مسیح موعود آئے گا اور اسمه احمد کا جملہ اس کو صاف کر دیتا ہے کیونکہ آنحضرت سال اسلام کا نام احمد نہ تھا بلکہ محمد تھا۔چنانچہ اس آیت زیر بحث کو چھوڑ کر جس میں نہ رسول اللہ صلی یہ یمن کو حد کہ کر مخاطب نہیں فرمایا بلکہ صرف حضرت مسیح کی ایک پیشگوئی بیان فرمائی ہے جو خود زیر بحث ہے کسی جگہ بھی قرآن کریم میں آنحضرت سالی تم کواحد نام سے یاد نہیں کیا گیا۔اگر آنحضرت مصلی یہ ہیم کا نام احمد ہوتا اور جیسا کہ لوگ بیان کرتے ہیں والدہ کو الہام کے ذریعہ سے یہ نام بتایا گیا ہوتا تو قرآن کریم میں جو وحی الہی ہے اول تو احمد نام ہی آتا اور اگر محمد بھی آتا تو احمد بعض مقامات پر ضرور آتا۔وہ عجیب الہامی نام تھا کہ قرآن کریم اس نام سے ایک دفعہ بھی آنحضرت سی ایم کو نہیں پکارتا۔دوسری دلیل آپ کا نام احمد نہ ہونے کی یہ ہے کہ کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ آپ کا نام احمد تھا۔کلمہ شہادت جس پر اسلام کا دار و مدار ہے اس میں بھی محمد رسول اللہ کہا جاتا ہے کبھی احمد رسول اللہ نہیں کہا جاتا ہے حالانکہ اگر آپ کا نام احمد ہوتا تو کلمہ شہادت کی کوئی روایت تو یہ بھی ہوتی کہ اَشهَدُ أَنَّ احمد رَسُولُ الله پنجوقتہ اذان میں بھی یہ بانگ بلند مُحمد رسُولُ اللہ کہہ کر آپ کی رسالت کا اعلان کیا جاتا ہے۔کبھی احمد رسول اللہ نہیں کہا جاتا۔تکبیر میں بھی محمد ہی آنحضرت سال یا اینم کا نام آتا ہے اور درود میں بھی آنحضور کومحمد نام لے کر ہی یاد کیا جاتا ہے اور اسی نام کے رسول پر